امریکا نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا، سفارتی کوششیں تیز

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ایران اور خطے کے متعدد ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ویک اینڈ پر زیر غور فوجی کارروائی کا منصوبہ بھی فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تو فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکا اور اس کے اتحادی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے بھی امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کیے جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام کے ساتھ رابطے کیے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
دریں اثنا امریکی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر رکھنے کے لیے ممکنہ معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔








