امریکا میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر سیاسی اختلافات میں اضافہ

واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ریپبلکن رہنما اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی سمجھی جانے والی شخصیت مارجوری ٹیلر گرین نے اس امکان کی سخت مخالفت کی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام طویل عرصے سے غیر ملکی جنگوں کے خلاف ہیں اور ایسی کسی نئی فوجی مہم جوئی کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق اگر امریکا نے ایران میں فوجی مداخلت کی کوشش کی تو ملک کے اندر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
گرین نے اپنے پیغام میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ “ہم اب مزید جنگیں نہیں چاہتے” اور اس مؤقف پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں ایک وسیع سیاسی اتحاد سامنے آ سکتا ہے جو حکومت کے فیصلے کے خلاف مزاحمت کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بعض امریکی اور اسرائیلی حلقوں میں ایران کے حوالے سے ممکنہ نئی کارروائیوں پر غور کی خبریں زیر بحث ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے معاملے پر امریکا کے اندر رائے تقسیم ہے، جہاں ایک طرف سخت گیر مؤقف رکھنے والے موجود ہیں تو دوسری طرف نئی جنگوں سے بچنے کے لیے آوازیں بھی تیزی سے ابھر رہی ہیں۔









