
آسٹریلیا کی University of Sydney اور RMIT University کے محققین نے ایک جدید نینو انجینیئرڈ پینٹ تیار کیا ہے جو عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ ساتھ فضا سے پانی جمع کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو ماحولیاتی مسائل کے ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ان شہروں میں جہاں درجہ حرارت اور پانی کی کمی دونوں بڑے چیلنج ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا آغاز محققین کی اس سوچ سے ہوا کہ کیا ایسی چھتیں تیار کی جا سکتی ہیں جو سورج کی حرارت کو کم کریں اور ساتھ ہی ہوا میں موجود نمی کو قابلِ استعمال پانی میں تبدیل کریں۔ بعد ازاں اس تحقیق سے ایک اسٹارٹ اپ کمپنی Dewpoint Innovations وجود میں آئی، جو ماحول دوست تعمیراتی حل پر کام کر رہی ہے۔
یہ نئی کوٹنگ “پیسو ریڈی ایٹو کولنگ” کے اصول پر کام کرتی ہے، جس میں خصوصی نینو میٹریلز سورج کی شعاعوں کا بڑا حصہ واپس فضا میں منعکس کر دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں عمارتوں کی سطح نسبتاً زیادہ ٹھنڈی رہتی ہے اور شہری علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت یعنی اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ابتدائی تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ پینٹ عام سفید کوٹنگ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے۔ جہاں روایتی سفید پینٹ تقریباً 70 سے 80 فیصد روشنی واپس منعکس کرتا ہے، وہاں یہ نئی کوٹنگ بعض ٹیسٹس میں 90 فیصد سے زائد، حتیٰ کہ 96 فیصد تک شعاعیں منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے باعث چھتوں کا درجہ حرارت ماحول کے مقابلے میں واضح طور پر کم ریکارڈ کیا گیا۔
مزید یہ کہ ٹھنڈی سطح اور مرطوب ہوا کے امتزاج سے اس پر پانی کے قطرے بننے لگتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ٹھنڈے شیشے پر بھاپ جمتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے 200 مربع میٹر کی چھت ایک دن میں اوسطاً 74 لیٹر تک پانی جمع کر سکتی ہے، بشرطیکہ ہوا میں نمی مناسب مقدار میں موجود ہو۔
اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر ساحلی اور مرطوب علاقوں کے لیے زیادہ مؤثر قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ہوا میں نمی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ نظام مکمل پانی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا، تاہم اضافی پانی کا ایک مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔
محققین کے مطابق ابھی اس ٹیکنالوجی پر مزید کام جاری ہے تاکہ مختلف موسموں اور حالات میں اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی کمپنی Dewpoint Innovations اس پینٹ کو تجارتی سطح پر لانے کے لیے مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی ٹیکنالوجیز بڑے پیمانے پر استعمال ہوں تو نہ صرف شہروں کا درجہ حرارت کم کیا جا سکتا ہے بلکہ توانائی کے استعمال اور کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی ممکن ہے، جبکہ پانی کی قلت جیسے مسئلے میں بھی جزوی مدد مل سکتی ہے۔









