پی آئی اے کے نئے یونیفارم پر تنقید، صارفین نے سروس اور طیاروں کی بہتری کا مطالبہ کر دیا

0
12
پی آئی اے کے نئے یونیفارم پر تنقید، صارفین نے سروس اور طیاروں کی بہتری کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے فضائی عملے کے لیے 2026 کے نئے یونیفارم کے ڈیزائن پیش کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث نے فیشن کے بجائے ایئرلائن کی مجموعی کارکردگی کا رخ اختیار کر لیا۔

پی آئی اے نے 16 ستمبر کو پاکستانی ڈیزائنرز کے تیار کردہ نئے یونیفارم کے ڈیزائن پیش کیے۔ ایئرلائن کے مطابق نئے ملبوسات میں جدید انداز، عملی ضرورت اور قومی شناخت کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایئرلائن کو یونیفارم کے ساتھ ساتھ مسافروں کو درپیش بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

صارفین کی جانب سے طیاروں کی حالت، پروازوں کی بروقت روانگی، کسٹمر سروس، عملے کے رویے اور دورانِ سفر صفائی و آرام جیسی سہولیات بہتر بنانے کا مطالبہ سامنے آیا۔

بعض صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ مسافر ایئرلائن کا انتخاب صرف عملے کے لباس کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے محفوظ اور آرام دہ سفر، بہتر سروس اور وقت کی پابندی زیادہ اہم عوامل ہیں۔

کچھ تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ نئے یونیفارم پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے طیاروں کے اندرونی حصوں، آپریشنز اور مسافروں کی سہولیات میں سرمایہ کاری کی جائے۔

دوسری جانب بعض صارفین نے یونیفارم کے ڈیزائن کو پاکستانی ثقافت سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کچھ نے روایتی لباس کے عناصر شامل کرنے کی تجویز دی، جبکہ دیگر نے بین الاقوامی فضائی سفر کی ضروریات کے مطابق جدید اور آرام دہ لباس کو ترجیح دینے کی رائے دی۔

واضح رہے کہ یہ تجاویز سوشل میڈیا صارفین کی آراء ہیں اور پی آئی اے نے ان میں سے کسی تجویز کو اپنانے کا اعلان نہیں کیا۔

پی آئی اے کی جانب سے یونیفارم میں تبدیلی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب ایئرلائن طویل عرصے سے مالی اور انتظامی مسائل سے دوچار رہی ہے۔ دسمبر 2025 میں حکومتِ پاکستان نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے تقریباً 135 ارب روپے کی بولی منظور کی تھی۔ یہ بولی عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے دی تھی۔

نئے یونیفارم کے ذریعے پی آئی اے کی ظاہری شناخت میں تبدیلی کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسافروں کی توجہ صرف ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہیں۔

مسافروں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ نئی وردیوں کے ساتھ کیا پروازوں کی بروقت روانگی، طیاروں کی حالت، صفائی، کسٹمر سروس اور مجموعی سفری تجربے میں بھی بہتری دیکھنے کو ملے گی یا نہیں۔

Leave a reply