امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک مجوزہ امن معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق معاہدے کے 14 نکات ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران پڑھکر سنائے۔
معاہدے کے مطابق امریکا اور ایران نے جنگی سرگرمیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی، دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔
معاہدے میں لبنان سمیت خطے کے دیگر حساس علاقوں میں امن برقرار رکھنے اور متعلقہ ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو تسلیم کیا ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکا اور ایران نے ایٹمی پروگرام سمیت دیگر متنازع امور پر حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کے مذاکراتی دور پر اتفاق کیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکے گی۔
معاہدے کی ایک اہم شق کے تحت امریکا ایران کے خلاف سمندری ناکہ بندی اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کا عمل فوری طور پر شروع کرے گا، جبکہ 30 دن کے اندر تمام پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی سمندری راستوں کو دوبارہ کھولنے، تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے اور عارضی طور پر کسی قسم کی فیس یا محصول وصول نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر مستقبل میں سمندری راستوں کے انتظام کے لیے مشاورت کرے گا۔
معاہدے میں امریکا نے ایران کی معاشی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ایک بڑے مالیاتی پروگرام کی حمایت کا وعدہ بھی کیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایران کی اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے وسائل فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، جس کی تفصیلات حتمی معاہدے میں شامل کی جائیں گی۔
پابندیوں کے حوالے سے امریکا نے ایران پر عائد مختلف معاشی اور مالی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایک مرحلہ وار طریقہ کار وضع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اسی دوران ایران کو عارضی طور پر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے، بینکنگ خدمات حاصل کرنے، انشورنس اور جہاز رانی کے شعبوں میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔
ایٹمی پروگرام کے معاملے میں ایران نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ معاہدے کے مطابق ایران کے موجودہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بین الاقوامی نگرانی میں ایک ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس کے ذریعے اس مواد کو غیر عسکری مقاصد تک محدود رکھا جا سکے۔
فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام میں مزید پیش رفت نہیں کرے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد کرنے یا خطے میں اضافی فوجی تعینات کرنے سے گریز کرے گا۔
معاہدے کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں اور مالی وسائل کی بحالی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا تاکہ ایرانی حکومت اور مرکزی بینک ان فنڈز کو ملکی ضروریات کے لیے استعمال کر سکیں۔
دستاویز میں ایک مشترکہ نگرانی کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے جو معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی اور دونوں فریقوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی نگرانی کرے گی۔
معاہدے کی آخری شق کے مطابق حتمی امن معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت دلانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی، تاکہ طےشدہ نکات پرعملدرآمد کویقینی بنایا جاسکے۔
واضح رہے کہ یہ تفصیلات غیر سرکاری ذرائع سے سامنے آئی ہیں اور متعلقہ حکومتوں کی جانب سے معاہدے کی باضابطہ تصدیق یا مکمل سرکاری متن جاری ہونا ابھی باقی ہے۔









