الیکٹرانک دستخط کیا ہوتے ہیں اور بین الاقوامی معاہدوں میں کیوں استعمال کیے جاتے ہیں؟

0
0
الیکٹرانک دستخط کیا ہوتے ہیں اور بین الاقوامی معاہدوں میں کیوں استعمال کیے جاتے ہیں؟

دنیا بھر میں سرکاری، کاروباری اور قانونی معاملات میں الیکٹرانک دستخطوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک مبینہ بین الاقوامی امن معاہدے کے تناظر میں بھی الیکٹرانک دستخطوں کا موضوع زیرِ بحث آیا، جس کے بعد بہت سے لوگوں نے جاننا چاہا کہ یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے۔

الیکٹرانک دستخط دراصل کسی دستاویز، معاہدے یا فارم پر انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کے ذریعے رضامندی ظاہر کرنے کا ایک جدید طریقہ ہے۔ اس میں فریقین کو ایک ہی مقام پر موجود ہونے یا ایک ہی کاغذ پر قلم سے دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

قانونی ماہرین کے مطابق، متعدد ممالک میں الیکٹرانک دستخطوں کو روایتی ہاتھ سے کیے گئے دستخطوں کے برابر قانونی حیثیت حاصل ہے، بشرطیکہ متعلقہ قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہوں۔

الیکٹرانک دستخط مختلف شکلوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ عام معاملات میں کسی فارم کے نیچے نام ٹائپ کرنا، دستخط کی اسکین شدہ تصویر لگانا یا “میں متفق ہوں” کے بٹن پر کلک کرنا بھی الیکٹرانک دستخط کی ایک شکل سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب اہم سرکاری اور بین الاقوامی معاہدوں میں زیادہ محفوظ ڈیجیٹل دستخطی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں خفیہ کوڈنگ، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس اور سیکیورٹی کی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہوتی ہیں، جن کے ذریعے دستخط کرنے والے کی شناخت اور دستاویز کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

بعض نظاموں میں بائیومیٹرک تصدیق بھی استعمال کی جاتی ہے، جس میں فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت یا آنکھوں کے اسکین کی مدد سے دستخط کنندہ کی شناخت کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، جدید الیکٹرانک دستخطی نظام نہ صرف وقت کی بچت کرتے ہیں بلکہ مختلف ممالک اور اداروں کے درمیان دستاویزات کے تبادلے کو بھی تیز اور مؤثر بناتے ہیں۔

بین الاقوامی معاہدوں کے موقع پر اکثر دستخطی تقریب کی تصاویر یا ویڈیوز بھی جاری کی جاتی ہیں۔ بعض اوقات اصل قانونی منظوری ڈیجیٹل یا الیکٹرانک ذرائع سے مکمل کی جاتی ہے، جبکہ میڈیا کے لیے دستاویزات کی پرنٹ شدہ نقول پر علامتی دستخط کیے جاتے ہیں تاکہ معاہدے کی تکمیل کو عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

Leave a reply