
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے استعمال شدہ گاڑیوں کددرآمد سے متعلق معاملات کو آئندہ آٹو پالیسی میں شامل کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق درآمدی قوانین اور ضوابط میں حالیہ نرمی کے بعد ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث حکومت نے اس شعبے کے لیے پالیسی سطح پر مزید اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمرشل امپورٹ اور گفٹ اسکیم کے تحت آنے والی گاڑیوں کے اعداد و شمار اور موجودہ طریقہ کار پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان میں 2 ہزار 276 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد ہوئیں، جبکہ مئی میں یہ تعداد صرف 48 گاڑیوں تک محدود تھی۔ چند ماہ کے دوران درآمدات میں ہونے والا یہ اضافہ حکومتی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
دوسری جانب مقامی آٹو مینوفیکچررز نے استعمال شدہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ درآمدات میں اضافے سے مقامی صنعت کو مسابقتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر گاڑیوں کے درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں اضافے سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی، جس سے صارفین کو زیادہ آپشنز دستیاب ہونے کے ساتھ گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی میں استعمال شدہ گاڑیوں کے حوالے سے ضوابط شامل کیے جانے سے اس شعبے میں آئندہ کے لیے واضح پالیسی فریم ورک تشکیل پانے کی توقع ہے۔









