
گوگل نے اپنی کلاؤڈ اسٹوریج پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ اینڈرائیڈ فونز کا بیک اپ ڈیٹا بھی گوگل اکاؤنٹ کی دستیاب اسٹوریج میں شمار کیا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق صارفین کو ای میل کے ذریعے اس تبدیلی سے 45 روز قبل مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی اسٹوریج کا جائزہ لے سکیں، غیر ضروری ڈیٹا حذف کریں یا بیک اپ سیٹنگز میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کر سکیں۔
نئی پالیسی کے تحت اینڈرائیڈ فون کی سسٹم سیٹنگز، ایپلیکیشنز کا ڈیٹا، ایس ایم ایس پیغامات اور کال ہسٹری سمیت دیگر بیک اپ فائلیں بھی گوگل اکاؤنٹ کی اسٹوریج کا حصہ ہوں گی۔ اس سے پہلے بنیادی طور پر گوگل فوٹوز، گوگل ڈرائیو اور جی میل کا ڈیٹا ہی اسٹوریج کی حد میں شمار کیا جاتا تھا۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اگر کسی صارف کی اسٹوریج مقررہ حد سے تجاوز کر جائے تو اسے غیر ضروری فائلیں حذف کرنا ہوں گی یا اضافی اسٹوریج حاصل کرنے کے لیے بامعاوضہ پلان اختیار کرنا ہوگا۔
کمپنی کے مطابق عام صارفین کے لیے اینڈرائیڈ بیک اپ کا اوسط حجم تقریباً 40 ایم بی ہو سکتا ہے، جبکہ صارفین کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ فیصلہ کریں کہ کن ایپس اور کس قسم کے ڈیٹا کا بیک اپ محفوظ رکھا جائے۔
یہ اقدام گوگل کی اسٹوریج پالیسی میں تازہ ترین تبدیلی ہے، جس کا مقصد کلاؤڈ اسٹوریج کے استعمال کو زیادہ منظم بنانا بتایا جا رہا ہے۔









