آبنائے ہرمز میں کیا ہونے والا ہے؟ نیٹو کے بغیر خفیہ منصوبہ زیرِ غور

0
25
آبنائے ہرمز میں کیا ہونے والا ہے؟ نیٹو کے بغیر خفیہ منصوبہ زیرِ غور

آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے لیے نیٹو کے بعض رکن ممالک نے اتحاد کے باضابطہ فوجی ڈھانچے سے الگ ممکنہ اقدامات پر مشاورت شروع کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیٹو کے اعلیٰ فوجی کمانڈر امریکی ایئر فورس کے جنرل الیکسس گرنکویچ نے 19 اگست کو مختلف اتحادی ممالک کے اعلیٰ دفاعی حکام کے ساتھ ویڈیو اجلاس کیا۔ اجلاس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ممکنہ تعاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیٹو حکام کے مطابق یہ کسی باقاعدہ نیٹو فوجی مشن کا حصہ نہیں۔ تاہم اتحاد اپنے رکن ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے اور دستیاب دفاعی صلاحیتوں کے جائزے میں معاونت فراہم کرسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق رکن ممالک ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں براہِ راست فریق بننے سے محتاط ہیں۔ اسی لیے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایسے انتظامات پر توجہ دی جارہی ہے جو نیٹو کے رسمی فوجی دائرہ کار سے باہر ہوں۔
فرانس اور برطانیہ مبینہ طور پر تقریباً ایک درجن ممالک کو شامل کرکے ایک ممکنہ مشترکہ انتظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد حالات معمول پر آنے کے بعد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ میں مدد دینا ہوگا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کسی طویل تعطل یا کشیدگی کے نتیجے میں عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
تاہم کسی مستقل اور طویل مدتی بحری انتظام کی کامیابی کے لیے ایران کا تعاون بھی اہم ہوگا۔ اس لیے آئندہ پیش رفت کا انحصار فوجی تعاون کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سیاسی صورتحال پر بھی رہے گا۔

Leave a reply