پچاس سال پرانی دوا سے نیا اینٹی بایوٹک دریافت، سائنس دانوں کی حیران کن کامیابی

0
131
پچاس سال پرانی دوا سے نیا اینٹی بایوٹک دریافت، سائنس دانوں کی حیران کن کامیابی

دنیا بھر میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت بڑھنے کے دوران سائنس دانوں نے ایک غیر متوقع دریافت کی ہے — ایک نیا اینٹی بایوٹک مرکب جو پچاس سال سے موجود تھا مگر کسی کی نظر میں نہیں آیا تھا۔

یہ نیا کیمیائی مرکب ”پری میتھلینومائسن سی لیکٹون“ کہلاتا ہے، جو دراصل مشہور اینٹی بایوٹک میتھلینومائسن اے کی تیاری کے دوران قدرتی طور پر وجود میں آتا ہے۔ تاہم، اب تک اسے سائنسی طور پر نظرانداز کیا جاتا رہا۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف واراِک اور موناش یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے اور اسے معروف تحقیقی جریدے جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی میں شائع کیا گیا ہے۔

پروفیسر گریگ چالس کے مطابق، “میتھلینومائسن اے” تقریباً پچاس برس پہلے دریافت ہوئی تھی، لیکن اس کے کیمیائی عمل کے درمیانی مراحل پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ ہم نے دو ایسے نئے مرکبات شناخت کیے ہیں جو اصل دوا سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوئے ہیں۔

تحقیق میں شریک سائنس دان ڈاکٹر لونا الخلف نے بتایا کہ یہ نیا اینٹی بایوٹک اسی بیکٹیریا میں پایا گیا ہے جو 1950 کی دہائی سے سائنس دانوں کے تجربات کا حصہ رہا ہے۔ ان کے مطابق، ’’اتنے پرانے اور معروف جاندار میں ایک بالکل نیا مؤثر مرکب ملنا حیران کن ہے۔‘‘

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ Streptomyces coelicolor نامی بیکٹیریا ابتدا میں ایک طاقتور دوا بناتا تھا، مگر وقت کے ساتھ اس نے اپنی ترکیب بدل کر نسبتاً کمزور مرکب، یعنی میتھلینومائسن اے، پیدا کرنا شروع کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف نئی اینٹی بایوٹکس کی تلاش میں اہم قدم ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پرانی تحقیق اور بھولی بسری کیمیائی ترکیبات پر دوبارہ غور کرنا انسانیت کے لیے نئے امکانات کھول سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، اینٹی بایوٹکس کے خلاف جراثیم کی بڑھتی مزاحمت دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، اور ایسی دریافتیں مستقبل میں علاج کے نئے دروازے کھول سکتی ہیں۔

Leave a reply