یہ غصہ آخر کہاں سے آیا؟

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہاں سب لوگ ایک جیسا سوچتے ہیں، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح رہتے ہیں۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرت کا لازمی حصہ ہے۔ دو انسانوں کے تجربات، ترجیحات اور نقطۂ نظر ایک جیسے نہیں ہوسکتے، اس لیے اختلاف فطری ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کو برداشت نہ کرنا ہے۔
مہذب معاشروں میں اختلاف گفتگو کو جنم دیتا ہے، جبکہ غیرمستحکم معاشروں میں یہی اختلاف نفرت، تصادم اور انتقام کا سبب بن جاتا ہے۔ جب انسان اپنے مخالف کی بات سننے کے بجائے اسے خاموش کرانے پر یقین کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف ایک فرد کے رویے کا نہیں بلکہ پورے معاشرتی مزاج میں تبدیلی کا ہے۔
ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں برداشت کا دامن کیوں سکڑتا جارہا ہے؟ معمولی سیاسی اختلاف دشمنی میں کیوں بدل جاتا ہے؟ مذہبی یا فکری اختلاف انسان کو دوسرے انسان سے دور کیوں کردیتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے قانون اور اداروں کے بجائے ذاتی طاقت، تعلقات یا اثر و رسوخ کو کیوں زیادہ مؤثر سمجھنے لگے ہیں؟
اس سوال کا ایک اہم جواب ریاستی اداروں اور نظامِ انصاف پر اعتماد میں کمی ہے۔
جس معاشرے میں شہری کو یقین ہو کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوگی تو قانون اس کی مدد کرے گا، وہاں انتقام کی خواہش نسبتاً کم ہوتی ہے۔ لیکن جب کسی شخص کو یہ محسوس ہونے لگے کہ انصاف صرف بااثر لوگوں کے لیے ہے، مقدمہ برسوں چل سکتا ہے، طاقتور شخص قانون سے بچ سکتا ہے اور کمزور کی آواز آسانی سے دبائی جاسکتی ہے تو پھر قانون پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یہ کیفیت خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ قانون پر اعتماد ختم ہونے کے بعد انسان اپنے ہاتھ کو قانون کا متبادل سمجھنے لگتا ہے۔ معمولی تنازع جھگڑے میں، جھگڑا دشمنی میں اور دشمنی انتقام میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ پھر ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دیتا ہے اور بدلے کا سلسلہ ختم ہونے کے بجائے نئی نسلوں تک منتقل ہوجاتا ہے۔
شدت پسندی صرف بندوق اٹھانے کا نام نہیں۔ کسی مختلف رائے رکھنے والے کو سننے سے انکار کرنا بھی اسی ذہنیت کی ایک نرم شکل ہے۔ سوشل میڈیا پر مخالف کی تذلیل، سیاسی اختلاف پر گالم گلوچ، مذہبی یا فکری اختلاف پر نفرت، اور ذاتی پسند و ناپسند کو اصول کا درجہ دے دینا بھی معاشرتی عدم برداشت کو بڑھاتا ہے۔
ہم شاید یہ بھول گئے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت ایک طرزِ فکر بھی ہے، جس میں اکثریت کو حکومت کرنے کا حق تو حاصل ہوتا ہے لیکن اقلیت کو اختلاف کرنے کا حق بھی محفوظ رہتا ہے۔ اگر ہم انتخابات تو قبول کرلیں مگر اختلافِ رائے قبول نہ کریں تو جمہوریت کا ڈھانچا تو باقی رہ سکتا ہے، اس کی روح نہیں۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مخالف کو دشمن نہیں بلکہ مکالمے کا فریق سمجھا جائے۔ پارلیمنٹ، عدالت، میڈیا، تعلیمی ادارے اور عوامی فورمز اسی لیے اہم ہیں کہ اختلاف کو تصادم کے بجائے گفتگو میں تبدیل کیا جاسکے۔ اگر یہ راستے کمزور ہوجائیں تو معاشرے میں غصے اور ردعمل کے غیر رسمی راستے مضبوط ہونے لگتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل بھی محض تقریروں اور نعروں میں نہیں بلکہ عملی اصلاحات میں ہے۔ سب سے پہلے قانون کی بالادستی کو حقیقی معنوں میں یقینی بنانا ہوگا۔ شہری کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ قانون طاقتور اور کمزور کے درمیان امتیاز نہیں کرے گا۔ انصاف بروقت ملے، ادارے شفاف ہوں، میرٹ کو ترجیح حاصل ہو اور احتساب سیاسی وابستگی سے آزاد ہو تو ریاست پر اعتماد دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں گھروں، اسکولوں اور جامعات میں اختلافِ رائے کے آداب بھی سکھانے ہوں گے۔ بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کسی کی بات سے اختلاف کرنا اور کسی انسان سے نفرت کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ دلیل کا جواب دلیل سے دینا کمزوری نہیں بلکہ ذہنی پختگی کی علامت ہے۔
معاشرے اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب لوگ ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر اختلاف کا اختتام اتفاق پر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بہترین نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو مختلف رائے رکھنے والے افراد ایک دوسرے کی بات سن کر بھی اپنی اپنی رائے برقرار رکھیں، مگر ایک دوسرے کے احترام کو قائم رکھیں۔
آخرکار شدت پسندی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جاسکتا۔ طاقت وقتی طور پر کسی رویے کو دبا سکتی ہے، لیکن دیرپا تبدیلی انصاف، تعلیم، مکالمے اور اعتماد سے آتی ہے۔
اگر ریاست شہری کو انصاف دے گی تو شہری انتقام کی طرف کم جائے گا۔ اگر معاشرہ اختلاف کو برداشت کرے گا تو نفرت کم ہوگی۔ اگر ادارے شفاف ہوں گے تو اعتماد بڑھے گا۔ اور اگر قانون سب کے لیے یکساں ہوگا تو لوگوں کو اپنے ہاتھ میں انصاف لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔
معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب لوگ یہ سیکھ لیتے ہیں کہ مختلف ہونا خطرہ نہیں، اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا خطرہ ہے۔ ہمیں اسی فرق کو سمجھنے اور اپنی اجتماعی زندگی میں دوبارہ جگہ دینے کی ضرورت ہے۔









