عزت کے نام پر موت: جب رشتے ہی قاتل بن جائیں

عزت کے نام پر موت: جب رشتے ہی قاتل بن جائیں

تحریر:محمد رشید

معاشرہ اس وقت ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑا ہے جس کا جواب ہم سب کو دینا ہوگا: آخر ایک گھر، جو تحفظ اور محبت کی علامت ہونا چاہیے، وہی بعض اوقات کسی عورت کے لیے موت کی جگہ کیوں بن جاتا ہے؟

ملک کے مختلف علاقوں سے خواتین کے اپنے شوہروں یا قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل کی خبریں وقفے وقفے سے سامنے آتی رہتی ہیں۔ بعض واقعات میں بیویوں کی جانب سے شوہروں کو قتل کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن نام نہاد غیرت، کاروکاری اور خاندانی عزت کے تصورات کے تحت ہونے والے قتل ایک الگ اور انتہائی سنگین سماجی مسئلہ ہیں۔

یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ ذہنوں کا بھی ہے۔ پسماندہ علاقوں میں جہالت، فرسودہ روایات اور قبائلی یا برادری کے دباؤ کو اس قسم کے واقعات کی بڑی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ تعلیم اور معاشی حیثیت میں بہتری کے باوجود شہری اور متوسط طبقہ بھی گھریلو تشدد اور ازدواجی تنازعات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔

شادی دو افراد کے درمیان ایک رشتہ ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات پورے خاندان تک پہنچتے ہیں۔ جب میاں بیوی کے درمیان اختلاف ناقابل برداشت ہوجائے تو ہمارے معاشرے میں علیحدگی کو بعض اوقات ناکامی اور بدنامی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اختلاف کی صورت میں باعزت علیحدگی قتل سے کہیں بہتر راستہ ہے۔

عدالتوں میں خلع اور طلاق کے مقدمات کی بڑی تعداد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہزاروں خاندان ازدواجی تنازعات سے گزر رہے ہیں۔ عورت کے لیے خلع اور مرد کے لیے طلاق کا قانونی راستہ موجود ہے۔ اختلاف کی صورت میں قانون کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی شخص کو اپنی مرضی سے زندگی ختم کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔

چند دہائیاں قبل سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی بعض پولیس افسران مقامی لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ کسی الزام یا شک کی بنیاد پر بیوی کو قتل کرنا عزت کا تحفظ نہیں۔ ایک شوہر اگر قتل کے جرم میں جیل پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے بچوں کا مستقبل بھی سوال بن جاتا ہے۔ ماں دنیا سے چلی جاتی ہے، باپ قید ہوجاتا ہے اور بچے ایسے رشتے داروں کے رحم و کرم پر آجاتے ہیں جو خود بھی کئی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

کاروکاری کے واقعات کا ایک اور بھیانک پہلو یہ ہے کہ ہر الزام حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ کبھی محض شک، کبھی ذاتی دشمنی اور کبھی مالی یا خاندانی تنازعے کو غیرت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بعض معاملات میں بااثر افراد یا غیر رسمی جرگے اور پنچایتیں ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کے نتائج انسانی جانوں کے ضیاع تک پہنچتے ہیں۔

یہاں سوال صرف قاتل کا نہیں، اس پورے نظام کا ہے جو کسی شخص کے الزام کو تحقیق اور قانون سے بالاتر سمجھ لیتا ہے۔ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، نہ کہ کوئی بااثر فرد، وڈیرہ، سردار یا پنچایت۔

پسند کی شادی کرنے والے نوجوان بھی اس سماجی کشمکش کا شکار ہیں۔ بعض لڑکے اور لڑکیاں خاندان کی مخالفت کے باوجود شادی کرلیتے ہیں اور پھر انہیں اپنے ہی رشتہ داروں سے جان کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ کچھ جوڑے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، کچھ پولیس سے تحفظ مانگتے ہیں اور کچھ برسوں تک چھپ کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ دو بالغ انسان اپنے جائز ازدواجی فیصلے کے بعد بھی اپنے خاندان سے خوفزدہ رہیں؟

دوسری طرف شادی کے معاملات میں جہیز، برادری، مالی حیثیت اور غیر ضروری مطالبات نے بھی کئی خاندانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ بیٹی کی شادی کو والدین کے لیے ایک معاشی بوجھ بنا دینا اور لڑکے کے رشتے کے ساتھ بھاری جہیز کی توقع رکھنا ایسی سماجی برائی ہے جو کئی گھرانوں میں مسائل کو جنم دیتی ہے۔

رشتے اگر خرید و فروخت کا معاملہ بن جائیں تو محبت، اعتماد اور خاندان کی خوشی کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ بعض علاقوں میں بیٹیوں کے رشتوں کے بدلے مالی لین دین کی روایات آج بھی موجود ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے شادی جیسے مقدس رشتے کو بھی سماجی مفادات اور مالی حساب کتاب سے جوڑ دیا ہے۔

تاہم معاشرہ مکمل طور پر مایوس کن تصویر بھی پیش نہیں کرتا۔ ایسے والدین بھی موجود ہیں جو اپنی اولاد کی پسند کو سمجھنے اور قبول کرنے لگے ہیں۔ کچھ خاندان ابتدا میں اختلاف کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ اپنی بیٹی یا بیٹے کے فیصلے کو تسلیم کرلیتے ہیں۔ یہی رویہ بتاتا ہے کہ تبدیلی ممکن ہے، بشرطیکہ ہم عزت کو انا کے بجائے انسان کی زندگی اور خوشی سے جوڑیں۔

شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں۔ معاشی پریشانی، شک، غصہ، عدم برداشت، خاندانی مداخلت، نشہ، جہیز اور رشتوں سے متعلق تنازعات اپنی جگہ اہم عوامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ایک کو بھی قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔

کسی عورت کو قتل کرکے نہ عزت واپس آتی ہے، نہ خاندان محفوظ ہوتا ہے اور نہ مسئلہ ختم ہوتا ہے۔ ایک قتل کے بعد کئی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ بچے یتیم ہوتے ہیں، خاندان ٹوٹتے ہیں اور قاتل بھی اپنی باقی زندگی جیل، مقدمات اور پچھتاوے کے ساتھ گزار سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، پولیس، عدلیہ، علما، اساتذہ، سماجی تنظیمیں اور میڈیا مل کر اس سوچ کے خلاف کام کریں جو قتل کو عزت کا نام دیتی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ شک، اختلاف یا پسند کی شادی کسی انسان کی جان لینے کا جواز نہیں۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سبق دینا ہوگا کہ عزت کسی کی جان لینے میں نہیں، بلکہ انسان کی جان بچانے میں ہے۔ رشتہ ختم ہوسکتا ہے، راستے جدا ہوسکتے ہیں، طلاق یا خلع ہوسکتی ہے، مگر کسی انسان کو موت کے حوالے کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔

اگر ہم نے اب بھی کاروکاری، غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کو محض معمول کی خبریں سمجھ کر نظرانداز کیا تو آنے والی نسلیں بھی اسی خوفناک روایت کا بوجھ اٹھاتی رہیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عزت کے نام پر ہونے والی درندگی کو عزت نہیں بلکہ جرم، ظلم اور انسانی المیہ سمجھا جائے۔

Leave a reply