مر گیا تو شہید، بچ گیا تو غازی!

یہ جملہ کبھی جنگ کے میدان کے لیے بولا جاتا تھا، مگر آج کراچی کی سڑکوں پر چلنے والے عام شہری کی حالت بھی کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔
ذرا سوچیے! ایک شہری اپنے گھر سے نکلتا ہے۔ اسے دفتر جانا ہے، بازار سے سودا خریدنا ہے، بچے کو اسکول پہنچانا ہے یا کسی اسپتال کا رخ کرنا ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی ڈھال ہے، نہ حفاظتی جیکٹ، نہ کوئی محفوظ راستہ۔ بس ایک جوڑا پاؤں ہے اور سامنے کراچی کی سڑک!
فٹ پاتھ کہاں ہے؟
وہاں دکان دار کا سامان رکھا ہے۔
آگے ریڑھی لگی ہے۔
کسی نے ٹھیہ جما رکھا ہے۔
کہیں موٹر سائیکلیں کھڑی ہیں، کہیں گاڑیاں۔
جہاں کچھ جگہ بچی ہے وہاں تعمیراتی ملبہ پڑا ہے۔
اور جہاں یہ سب کچھ نہیں، وہاں تیز رفتار ٹریفک پیدل چلنے والے کو موت کا خوف دکھا رہی ہے۔
آخر پیدل چلنے والا جائے تو کہاں جائے؟
فٹ پاتھ شہری کا حق ہے، کسی کی جاگیر نہیں
فٹ پاتھ محض سیمنٹ، اینٹوں یا ٹائلوں سے بنی ایک پٹی کا نام نہیں۔ یہ شہری کی محفوظ نقل و حرکت کا بنیادی حق ہے۔ رہائشی ہو یا کاروباری عمارت، سڑک کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب جگہ کا ہونا شہری منصوبہ بندی کا بنیادی تقاضا ہے۔
مگر کراچی میں فٹ پاتھ رفتہ رفتہ غائب نہیں ہوئے، غائب کر دیے گئے ہیں۔
کبھی ان پر دکانوں کا سامان آ گیا، کبھی پارکنگ بن گئی، کبھی پتھارے لگ گئے اور کبھی کسی تعمیراتی منصوبے نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
نتیجہ؟
پیدل چلنے والا فٹ پاتھ سے اتر کر سڑک پر آتا ہے اور پھر اسے ٹریفک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ایک غلط قدم، ایک لمحے کی بے احتیاطی، ایک تیز رفتار گاڑی۔۔۔ اور ایک گھر کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ جاتا ہے۔
کراچی کی سڑکیں سکڑتی گئیں، خطرات بڑھتے گئے
ایک وقت تھا جب کراچی کی کشادہ سڑکیں شہر کی پہچان سمجھی جاتی تھیں۔ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ ہوتے تھے، پیدل چلنے والے بے خوف چلتے تھے اور سڑک عبور کرنے کے لیے شہریوں کو اپنی جان ہتھیلی پر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
پھر شہر کی آبادی بڑھی۔
عمارتیں بڑھیں۔
دکانیں بڑھیں۔
گاڑیوں کی تعداد بڑھی۔
پارکنگ کا مسئلہ بڑھا۔
تجاوزات بڑھیں۔
مگر پیدل چلنے والے کے لیے جگہ نہیں بڑھی۔
بلکہ جو جگہ پہلے موجود تھی، وہ بھی رفتہ رفتہ چھین لی گئی۔
آج کراچی کے کئی علاقوں میں ایسا لگتا ہے جیسے سڑک پر گاڑیوں، کنارے دکانوں اور فٹ پاتھ پر تجاوزات کے بعد پیدل چلنے والے کے لیے شہر میں کوئی جگہ ہی باقی نہیں رہی۔
پارکنگ مافیا، تجاوزات اور بے بس شہری
ایک طرف سڑکوں کے کنارے اور بعض مقامات پر پارکنگ نے راستے تنگ کر دیے ہیں، دوسری طرف دکانوں کے سامنے سامان پھیلا ہوا ہے۔ کہیں ریڑھی، کہیں ٹھیہ اور کہیں عارضی تعمیر مستقل قبضے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
پیدل چلنے والا پہلے فٹ پاتھ تلاش کرتا ہے۔
فٹ پاتھ مل جائے تو وہاں تجاوزات کھڑی ہوتی ہیں۔
وہ سڑک پر اترتا ہے تو وہاں گاڑی کھڑی ہوتی ہے۔
وہ مزید آگے بڑھتا ہے تو تیز رفتار ٹریفک سامنے آ جاتی ہے۔
اور پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا کراچی میں پیدل چلنا بھی جرم بن چکا ہے؟
پل موجود، مگر بزرگ کہاں جائیں؟
سڑک پار کرنے کے لیے کئی مقامات پر پیدل پل بنائے گئے، مگر ان پلوں کی حالت اور ساخت بھی ایک الگ سوال ہے۔
بوڑھے، بیمار، معذور اور کمزور شہری بلند سیڑھیاں چڑھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے شہریوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی راستہ کہاں ہے؟
اگر شہری سڑک سے گزرے تو گاڑیوں کا خطرہ، پل استعمال کرے تو دشوار سیڑھیاں!
آخر محفوظ راستہ ہے کہاں؟
سڑک کے بیچ رکاوٹیں، نظر کے سامنے اندھیرا
بعض سڑکوں کے درمیان لگائے گئے درخت، پودے یا دیگر رکاوٹیں اگر مناسب منصوبہ بندی کے بغیر ہوں تو ڈرائیور اور پیدل چلنے والے دونوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
سڑک پر سفر کرتے ہوئے چند سیکنڈ کی واضح بصارت بھی زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔
مگر ہمارے ہاں شہری منصوبہ بندی کا سوال اٹھانے والا کون ہے؟
گٹر کے ڈھکن غائب، شہری غائب
مسئلہ صرف فٹ پاتھ کا نہیں۔
کراچی کے کئی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر سڑکیں اور فٹ پاتھ کھود دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ کھدائیاں دنوں سے ہفتوں اور ہفتوں سے مہینوں تک شہریوں کے لیے خطرہ بنی رہتی ہیں۔
کہیں کھلا گٹر ہے، کہیں ٹوٹی ہوئی سڑک، کہیں ملبہ اور کہیں ایسی گہری کھدائی جس میں ذرا سی غفلت کسی انسان کو زندگی بھر کا زخم دے سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ترقیاتی کام شہریوں کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں یا انہیں موت کے خطرے میں ڈالنے کے لیے؟
تجاوزات کے خلاف کارروائی: دو دن کی صفائی، پھر وہی کہانی
کبھی کبھار میونسپل ادارے تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
بلڈوزر آتے ہیں۔
سامان اٹھایا جاتا ہے۔
فٹ پاتھ نظر آنے لگتے ہیں۔
سڑکیں کشادہ دکھائی دیتی ہیں۔
شہری خوش ہوتے ہیں کہ شاید اب شہر بدل رہا ہے۔
مگر چند دن گزرتے ہیں۔۔۔
اور پھر وہی ریڑھیاں، وہی سامان، وہی پارکنگ، وہی قبضے اور وہی تنگ راستے واپس آ جاتے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے:
اگر تجاوزات غیر قانونی ہیں تو انہیں دوبارہ قائم ہونے کون دیتا ہے؟
اور اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر بعض قبضے بار بار کیسے واپس آ جاتے ہیں؟
اصل مافیا کون ہے؟
سب سے خطرناک سوال یہی ہے۔
کیا صرف ریڑھی لگانے والا ذمہ دار ہے؟
کیا صرف دکان کے باہر سامان رکھنے والا ذمہ دار ہے؟
یا پھر وہ پورا نظام ذمہ دار ہے جو غیر قانونی قبضے کو قائم رہنے دیتا ہے؟
اگر کسی کارروائی کے بعد تجاوزات چند ہی دن میں دوبارہ قائم ہو جائیں تو شہری یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کہیں مسئلہ صرف تجاوزات کرنے والوں کا نہیں، ان کے پیچھے موجود سرپرستی کے نظام کا بھی تو نہیں؟
بدعنوانی، بھتہ خوری اور سرپرستی کے الزامات اگر درست ہیں تو ان کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہئیں۔ محض چند اہلکاروں کی معطلی یا وقتی کارروائی سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔
کیونکہ سوال ایک شخص کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔
کراچی: انسانوں کے لیے شہر یا گاڑیوں کے لیے؟
ایک شہر کی کامیابی صرف بلند و بالا عمارتوں، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور چمکتی سڑکوں سے نہیں ناپی جاتی۔
یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک عام آدمی اس شہر میں کتنی آسانی اور کتنی حفاظت سے چل سکتا ہے۔
کیا ایک بچہ اسکول جاتے ہوئے محفوظ ہے؟
کیا ایک بزرگ بازار جاتے ہوئے محفوظ ہے؟
کیا ایک ماں اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر سڑک عبور کر سکتی ہے؟
کیا ایک معذور شہری کے لیے فٹ پاتھ قابلِ استعمال ہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر ہمیں ترقی کے دعووں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
فٹ پاتھ واپس دو!
کراچی کو صرف نئی سڑکیں نہیں چاہئیں۔
کراچی کو قابلِ استعمال فٹ پاتھ چاہئیں۔
ایسے فٹ پاتھ جو تجاوزات سے آزاد ہوں۔
ایسے راستے جو معذور اور بزرگ شہری بھی استعمال کر سکیں۔
ایسی کراسنگ جہاں پیدل چلنے والے محفوظ طریقے سے سڑک عبور کر سکیں۔
ایسی منصوبہ بندی جس میں انسان کو گاڑی سے کم اہم نہ سمجھا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر ایسا نظام چاہیے جہاں قانون صرف غریب ریڑھی والے پر نہیں بلکہ ہر تجاوزات کرنے والے پر یکساں لاگو ہو۔
کراچی کے شہری خیرات نہیں مانگ رہے۔
وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
انہیں سڑک کے کنارے چند فٹ محفوظ جگہ چاہیے۔
انہیں چلنے کا حق چاہیے۔
انہیں سڑک پار کرنے کا حق چاہیے۔
انہیں اپنے بچوں، بزرگوں اور خاندان کے ساتھ زندہ گھر واپس پہنچنے کا حق چاہیے۔
ورنہ یہ سوال کراچی کی ہر سڑک، ہر چوراہے اور ہر بند فٹ پاتھ سے اٹھتا رہے گا:
آخر اس شہر میں پیدل چلنے والا جائے تو کہاں جائے؟
اور اگر جواب اب بھی خاموشی ہے تو پھر شاید کراچی واقعی ایک ایسے شہر میں بدل چکا ہے جہاں
مر گیا تو شہید،
اور زندہ بچ گیا تو غازی!









