گورنر راج: عوام کس جرم کی سزا بھگتیں؟

گورنر راج: عوام کس جرم کی سزا بھگتیں؟

تحریر:اسامہ ذوالفقار راحت

خیبر پختونخوا کی سیاست میں 11 اکتوبر 2026 ایک اہم موڑ بن کر سامنے آیا، جب وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے اس اقدام کی وجہ دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتِ حال کو قرار دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اسے اپنے منتخب اقتدار اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد صوبے کے عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوگی اور کتنی مشکل؟

گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور بعض دوسرے سیاسی رہنماؤں کی حفاظتی تحویل کی تصدیق حکومتی حکام نے کی۔ پی ٹی آئی نے ان اقدامات پر شدید اعتراضات اٹھائے اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیا۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی بحالی اور قانون کی عمل داری ضروری ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان سیاسی اور آئینی اختلافات کے درمیان عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟

گورنر راج کا پہلا دن، عوام کی پہلی آزمائش

11 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس صورتِ حال کے اثرات اگلے چند دنوں میں سڑکوں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور سیاسی سرگرمیوں میں محسوس ہونے لگے۔ مختلف علاقوں میں احتجاج، سڑکوں کی بندش اور ٹریفک کی مشکلات سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا کی بندش یا سست روی کی اطلاعات بھی ملیں، جبکہ کچھ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

ایک مزدور جو روزانہ کی دیہاڑی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، اس کے لیے سڑک کی بندش محض سیاسی خبر نہیں بلکہ اس دن کی کمائی کا نقصان ہے۔ ایک طالب علم کے لیے امتحان کا ملتوی ہونا اس کی تعلیمی منصوبہ بندی میں خلل ہے۔ ایک دکاندار کے لیے بازار میں گاہکوں کی کمی نقصان ہے، جبکہ ایک مریض کے لیے راستے کی رکاوٹ زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے سیاسی بیانات میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حکومت کسی بھی نام سے آئے، اس کی کامیابی کا پیمانہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی ہونا چاہیے۔

سہیل آفریدی کی گرفتاری: قانون یا سیاسی تصادم؟

سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حکومتی حکام نے ان کی تحویل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات ہوں گے، ان کے معاملات قانون کے مطابق چلائے جائیں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے ان کی گرفتاری اور صوبائی حکومت کے خاتمے کو جمہوری مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا ہے۔

یہاں بنیادی اصول واضح ہونا چاہیے: اگر کسی سیاسی رہنما کے خلاف قانونی الزامات ہیں تو انہیں شفاف قانونی کارروائی کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ نہ کسی سیاسی عہدے کو قانون سے بالاتر ہونا چاہیے اور نہ کسی سیاسی اختلاف کو گرفتاری کا متبادل بنایا جانا چاہیے۔

سہیل آفریدی کی گرفتاری سے وقتی طور پر سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے سیاسی اختلافات ختم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ اگر پی ٹی آئی اسے اپنے خلاف کارروائی سمجھتی ہے تو احتجاج میں شدت آ سکتی ہے، جبکہ حکومت کے لیے امن و امان برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ قانون، شفافیت اور سیاسی مکالمے میں ہے۔

آج کے بعد کیا ہوگا؟

14 اکتوبر تک سامنے آنے والی صورتِ حال سے تین ممکنہ راستے دکھائی دیتے ہیں۔

پہلا راستہ یہ ہے کہ انتظامیہ امن و امان بہتر بنانے، عوامی خدمات بحال رکھنے اور سیاسی کارکنوں کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو۔ ایسی صورت میں حالات بتدریج معمول پر آ سکتے ہیں، کاروبار بحال ہو سکتے ہیں اور شہریوں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔

دوسرا راستہ سیاسی کشیدگی میں اضافے کا ہے۔ اگر احتجاج، گرفتاریاں اور سخت انتظامی اقدامات ایک دوسرے کو بڑھاتے رہے تو کاروبار، تعلیم، نقل و حرکت اور روزگار مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان خاندانوں پر پڑے گا جن کے پاس آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں۔

تیسرا راستہ مذاکرات اور آئینی عمل کا ہے۔ وفاقی حکومت، صوبے کی سیاسی قیادت اور متعلقہ ادارے مل بیٹھ کر سکیورٹی کے مسائل، اختیارات اور عوامی نمائندگی سے متعلق اختلافات کا حل تلاش کریں تو تصادم کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

آئینی طور پر آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری اور مدت سے متعلق شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ اس لیے اس اقدام کی قانونی حیثیت، مدت اور مستقبل کا فیصلہ آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ عوام کو بھی یہ جاننے کا حق ہے کہ اس انتظام کا مقصد کیا ہے، اس کے نتائج کیسے ناپے جائیں گے اور منتخب نمائندگی کی بحالی کا راستہ کیا ہوگا۔

اصل امتحان اقتدار کا نہیں، عوام کا ہے

خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں سیاسی عدم استحکام ان مشکلات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ امن و امان کی بحالی یقیناً ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اس ذمہ داری کی ادائیگی میں شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار، تعلیم اور بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج خیبر پختونخوا کے عوام کو محض بیانات نہیں، تحفظ چاہیے؛ سیاسی نعرے نہیں، روزگار چاہیے؛ طاقت کا مظاہرہ نہیں، قانون کی یکساں عمل داری چاہیے۔

گورنر راج کامیاب ہوگا یا ناکام، اس کا فیصلہ صرف حکومتی دعوے یا اپوزیشن کے احتجاج سے نہیں ہونا چاہیے۔ اصل معیار یہ ہوگا کہ کیا دہشت گردی میں کمی آئی؟ کیا شہری محفوظ ہوئے؟ کیا بازار اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق چلنے لگے؟ کیا بے گناہ شہری سیاسی کشمکش سے محفوظ رہے؟ اور کیا عوام کو اپنے منتخب نمائندوں اور آئینی حقوق کے مستقبل کے بارے میں واضح جواب ملا؟

کیونکہ جب سیاست دان اقتدار کی جنگ لڑتے ہیں تو اس کی قیمت اکثر وہ غریب شہری ادا کرتا ہے جس کا نہ اقتدار میں حصہ ہوتا ہے اور نہ فیصلوں میں اختیار۔

خیبر پختونخوا کو اس وقت ایک اور سیاسی محاذ آرائی نہیں، امن، انصاف، معاشی تحفظ اور آئینی استحکام کی ضرورت ہے۔

Leave a reply