کپتان کا کھلاڑی

کپتان کا کھلاڑی

تحریر:اسامہ ذوالفقار راحت

پاکستان کی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو اچانک منظرنامے کے مرکز میں آ جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی اس وقت کچھ ایسی ہی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف ان کے پاس صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور دوسری طرف وہ پاکستان تحریک انصاف کی اس سیاسی حکمت عملی کا نمایاں چہرہ بن چکے ہیں جس کا مرکزی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔ عالمی اور ملکی میڈیا میں بھی ان کے حالیہ سیاسی کردار اور قومی سطح پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی کے سیاسی انداز کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم واقعہ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک احتجاج کی تاریخ کی تبدیلی ہے۔ تحریک انصاف نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردی گئی۔ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ مارچ پشاور سے شروع ہوگا اور اسلام آباد کی جانب بڑھے گا۔

یہ تبدیلی بظاہر صرف تاریخ کی تبدیلی تھی، مگر سیاست میں تاریخ بھی کبھی کبھی پیغام بن جاتی ہے۔

حکومت نے 27 ستمبر کے لیے پہلے ہی سکیورٹی انتظامات کیے ہوئے تھے۔ مختلف راستوں پر رکاوٹیں، کنٹینرز اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ جب احتجاج کی تاریخ تبدیل ہوئی تو حکومت کی پہلے سے کی گئی تیاری ایک نئے سیاسی سوال میں تبدیل ہوگئی کہ کیا تحریک انصاف نے حکمت عملی تبدیل کرکے حکومت کو ایک مختلف مرحلے میں داخل کردیا ہے؟

یہیں سے سہیل آفریدی کا سیاسی کھیل زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف طویل سیاسی جدوجہد کر رہی ہے اور احتجاج آئینی و جمہوری حق کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے بعض نمائندوں نے تاریخ تبدیل کرنے کو مختلف انداز میں بیان کیا اور تحریک انصاف پر تنقید کی۔ یوں 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک کا یہ وقفہ محض سات دن کا نہیں رہا بلکہ دونوں جانب سے سیاسی بیانیے کی جنگ کا حصہ بن گیا۔

سہیل آفریدی نے وفاق کو یہ پیغام بھی دیا کہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے لیے وقت موجود ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے، مگر مذاکرات کا دروازہ بھی بند نہیں کیا گیا۔

یہ سیاسی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ہے۔

ایک طرف احتجاج کی کال برقرار رکھنا اور دوسری طرف مذاکرات کی بات کرنا دراصل حکومت پر سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کا طریقہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، اور اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو تحریک انصاف یہ مؤقف اختیار کرسکتی ہے کہ اس نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا تھا۔

لیکن سہیل آفریدی کی سیاست صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہی۔

ستمبر میں ان کا پنجاب کا رخ کرنا بھی اسی بڑے سیاسی منظرنامے کا حصہ تھا۔ تحریک انصاف نے پنجاب میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے ان کے دوروں اور رابطوں کا منصوبہ بنایا۔ وہ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے اور پنجاب کے پارٹی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیں۔

لاہور میں ان کی سیاسی سرگرمیوں نے پنجاب حکومت کے ساتھ براہِ راست کشیدگی کو بھی نمایاں کیا۔ سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس اور انتظامیہ پر اپنے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد کیے، جبکہ پنجاب حکومت نے ان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ان کی پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔ دونوں جانب کے بیانات نے معاملے کو مزید سیاسی رنگ دے دیا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی آخر پنجاب کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟

اس کا ایک سیاسی جواب یہ ہے کہ اسلام آباد کی سیاست میں پنجاب کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وفاقی دارالحکومت تک پہنچنے والی کسی بھی بڑی سیاسی تحریک کے لیے پنجاب کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت بنیادی ہے۔ اسی لیے پنجاب میں کارکنوں سے رابطہ، سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور احتجاج کے لیے ماحول بنانا تحریک انصاف کی حکمت عملی کا اہم حصہ نظر آتا ہے۔

سہیل آفریدی اسی حکمت عملی کے نمایاں کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اب اصل امتحان 4 اکتوبر ہے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو ہوگا اور کارکن تیاری جاری رکھیں۔ پارٹی کی جانب سے احتجاج کو پُرامن رکھنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

لیکن سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ اعلان کرنا اور اعلان کو عملی قوت میں تبدیل کرنا دو مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے بھی تیاری کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت اور تحریک انصاف اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں اصل مقابلہ صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ سیاسی بیانیے، کارکنوں کی موبلائزیشن، مذاکرات اور انتظامی فیصلوں کے محاذ پر بھی ہوگا۔

سہیل آفریدی نے اپنے بیانات میں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بھی سخت سیاسی مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا رہا ہے کہ بعض معاملات میں حکومت رکاوٹ بن رہی ہے اور سیاسی راستہ نکلنے نہیں دیا جا رہا۔ تاہم ان دعوؤں اور پسِ پردہ سیاسی رابطوں سے متعلق مختلف اطلاعات موجود ہیں، اس لیے ان معاملات کو حتمی حقیقت کے بجائے سیاسی دعووں اور رپورٹ شدہ قیاس آرائیوں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

ایک بات البتہ واضح ہے: سہیل آفریدی اب صرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے طور پر نظر نہیں آ رہے۔ وہ تحریک انصاف کی قومی سطح کی احتجاجی سیاست میں ایک نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔

“کپتان کا کھلاڑی” کا سیاسی استعارہ اسی لیے ان پر فٹ بیٹھتا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان کی جماعت نے انہیں ایک ایسے مرحلے پر میدان میں آگے کیا ہے جہاں صوبائی حکومت، اپوزیشن کی سیاست، پنجاب میں سیاسی رابطے اور اسلام آباد کی طرف مارچ—سب ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔

مگر سیاست میں اصل فیصلہ نعروں سے نہیں، نتائج سے ہوتا ہے۔

4 اکتوبر کو یہ دیکھنا ہوگا کہ سات دن کا یہ وقفہ تحریک انصاف کو کس حد تک منظم کرتا ہے، پنجاب میں سیاسی موبلائزیشن کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے، حکومت احتجاج سے کیسے نمٹتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا احتجاج سیاسی مذاکرات کا راستہ کھولتا ہے یا کشیدگی کو مزید بڑھاتا ہے۔

پاکستان اس وقت پہلے ہی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے فیصلوں کا اثر صرف ان کی جماعتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام شہری، کاروبار، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

سہیل آفریدی نے اپنا سیاسی مہرہ آگے بڑھا دیا ہے۔ اب 4 اکتوبر بتائے گا کہ یہ چال صرف سیاسی دباؤ تک محدود رہتی ہے یا پاکستان کی سیاست میں ایک نئے مرحلے کا آغاز کرتی ہے۔

Leave a reply