اقوام متحدہ کے نقشے میں کشمیر متنازع خطہ، بھارت سمیت 164 ممالک کی قرارداد کی حمایت

0
7
اقوام متحدہ کے نقشے میں کشمیر متنازع خطہ، بھارت سمیت 164 ممالک کی قرارداد کی حمایت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی نقشوں کے حوالے سے ایک نئی قرارداد منظور کرلی ہے، جس میں روایتی مرکیٹر نقشے کے بجائے ایکول ارتھ نقشے کے استعمال کی حمایت کی گئی ہے۔

نئے منظور شدہ نقشے میں کشمیر کو متنازع خطے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ لائن آف کنٹرول کو نقطہ دار لکیر کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔

قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد 164 رہی، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر نقشہ جاتی حیثیت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے میں کشمیر کو متنازع علاقہ ظاہر کیا جانا اس مسئلے کی بین الاقوامی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے کشمیر کو ایک حل طلب اور متنازع تنازع قرار دیتا آیا ہے، جبکہ بھارت اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔

بھارت کی جانب سے قرارداد کی حمایت کے بعد ملک کے اندر بھی اس پر سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے معاملے پر وضاحت پیش کی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی ووٹ صرف نقشے کے جغرافیائی تناسب سے متعلق تھا تو کشمیر کو متنازع خطے کے طور پر دکھائے جانے پر نئی دہلی کی جانب سے اعتراض کیوں نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کا منظور شدہ معیاری نقشہ ہی عالمی سطح پر قابل قبول حوالہ ہے۔ پاکستانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ بھارت ماضی میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی اداروں پر اپنے سرحدی مؤقف کے مطابق نقشے استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق اقوام متحدہ کے معیاری نقشے کی حمایت میں بھارت کا ووٹ کشمیر کی متنازع حیثیت سے متعلق اس کے دیرینہ مؤقف پر نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔

Leave a reply