کب تک ہمارے بچے خوف کے سائے میں جیتے رہیں گے؟

ایک ایسا معاشرہ جہاں بچے مسکراہٹ، تعلیم اور محفوظ مستقبل کے خواب دیکھنے کے حق دار ہوں، وہاں آج ننھے ہاتھ خوف، بھوک، تشدد اور بے یقینی کی گرفت میں ہیں۔ گزشتہ برسوں میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے بھی انجانے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا لمحہ آئے گا جب ریاست اپنے سب سے قیمتی اثاثے یعنی بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح بنائے گی؟
قانون کتابوں میں موجود ہیں، دفاتر میں فائلیں موجود ہیں، عدالتیں موجود ہیں، لیکن متاثرہ خاندانوں کے آنسو آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ظالم کو سزا ملنے کی امید میں برسوں گزر جاتے ہیں، جبکہ مظلوم خاندان اپنی پوری زندگی ایک ایسے دکھ کے ساتھ گزار دیتے ہیں جس کا کوئی مداوا ممکن نہیں ہوتا۔
بچے صرف گھر کی خوشی نہیں ہوتے، وہ قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جب کسی بچے پر ظلم ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پورا خاندان اور پورا معاشرہ زخمی ہو جاتا ہے۔ ماں باپ کے دل پر لگنے والا یہ زخم وقت کے ساتھ مدھم تو ہو سکتا ہے لیکن مٹ نہیں سکتا۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں پہلے ہی بے شمار مسائل موجود ہیں، بچوں کا عدم تحفظ ایک بڑا المیہ بن چکا ہے۔ اغوا، تشدد، زیادتی اور بیماریوں کے واقعات نے عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایچ آئی وی اور دیگر خطرناک بیماریوں کے شکار بچوں کے واقعات نے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سانحے کے بعد صرف تحقیقات اور احکامات تک محدود رہیں گے یا مستقل حل کی طرف بڑھیں گے؟
طبی فضلے کی ناقص تلفی، صفائی کے نظام کی خرابیاں اور اداروں کی غفلت صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ جب تک ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریوں کو محض عہدہ نہیں بلکہ امانت سمجھ کر ادا نہیں کریں گے، ایسے حادثات کا خطرہ برقرار رہے گا۔
اسلام نے صفائی، علم، رحم اور انسانیت کا درس دیا ہے۔ قرآن کا پہلا پیغام ہی علم حاصل کرنے کا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے کئی خاندانوں کو محرومی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ بھوک، غربت اور جہالت کا شکار بچے آسانی سے غلط راستوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ جرائم صرف قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط تربیت، تعلیم، انصاف اور معاشرتی شعور سے بھی کم ہوتے ہیں۔ ایک ایسا ماحول جہاں بچوں کو تعلیم کے بجائے مزدوری، خوف اور محرومی ملے، وہاں مستقبل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بچیوں کے خلاف جرائم کے واقعات نے قوم کے ضمیر کو بار بار جھنجھوڑا ہے۔ زینب، مروہ، فریشتہ اور فاطمہ جیسے نام صرف خبریں نہیں، وہ دردناک یادیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے محض وعدے کافی نہیں، عملی اقدامات ضروری ہیں۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے سفر میں بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سماجی دباؤ، کبھی الزام تراشی اور کبھی طویل عدالتی کارروائی ان کے زخموں کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ معاشرے کو چاہیے کہ مظلوم کا ہاتھ تھامے، نہ کہ اس پر سوالات کے تیر چلائے۔
دیہی علاقوں میں طاقتور طبقات کی جانب سے کمزور لوگوں کے استحصال کے واقعات بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں کسی فرد یا خاندان کو خوف، جبر یا غیر قانونی قید کا شکار بنانا ریاستی رٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ قانون کی عمل داری، تیز انصاف، بہتر تعلیم، مضبوط صحت کا نظام اور سماجی شعور ہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
ایک قوم کا مستقبل اس بات سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کی حفاظت نہ کی تو کل تاریخ ہم سے سوال کرے گی:
وہ بچے جو قوم کا سرمایہ تھے، انہیں خوف کے حوالے کیوں کر دیا گیا؟









