ڈیجیٹل فراڈ کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان

ڈیجیٹل فراڈ کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان

تحریر:ڈاکٹر سرور حسین

اکیسویں صدی کے پہلے حصے میں ہی انسان نے ترقی کی ایسی حیرت انگیز منازل طے کی ہیں کہ دنیا سمٹ کر ایک چھوٹی سی اسکرین میں سما گئی ہے۔ موبائل فون اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ علم، تجارت، تعلیم، بینکاری اور روزمرہ زندگی کی بے شمار ضروریات کا مرکز بن چکا ہے۔ بظاہر یہ سہولتوں اور تن آسانی کی ایک ناقابل یقین جدید دنیا ہے، مگر اسی کے پردے میں دھوکے، فریب اور استحصال کا ایک جال بھی موجود ہے جو اتنا ہی ڈیجیٹلائز ہے جتنی یہ جدید دنیا۔ ڈیجیٹل فراڈ کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے معاشرے کے لئے محض مالی نقصان کا مسئلہ نہیں، بلکہ اعتماد، اخلاقیات، قانون اور انسانی تحفظ کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔اس سے جڑے ہوئے افراد نے انسانی نفسیات اور جذبات کو ہی اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنا لیا ہے۔ کبھی موبائل فون پر بینک اکاؤنٹ بند ہونے کا پیغام آتا ہے، کبھی کسی انعام کے ملنے کی خوش خبری سنائی جاتی ہے، کبھی اکاؤنٹ کی تصدیق کے نام پر خفیہ معلومات حاصل کر لی جاتی ہیں اور اس طرح کے درجنوں واقعات اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔
ان کے دو ہی بنیادی ہتھیار ہیں ایک خوف اور دوسرا لالچ کہ یہ دو ہی انسانی نفسیات کی سب سے بڑی کمزوری ہیں۔بنیادی سوال یہ نہیں کہ لوگ دھوکہ کیوں کھا جاتے ہیں بلکہ یہ زیادہ قابل توجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی اتنی ترقی کے بعد دھوکا دینے والوں کیلئے یہ عمل اتنا آسان کیسے ہو گیا ہے۔واٹس ایپ ہیکنگ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر غیر قانونی قبضہ ڈیجیٹل جرائم کی ایسی صورتیں ہیں جن کے اثرات ایک فرد سے آگے پورے خاندان، دوستوں اور کاروباری حلقوں تک پھیل جاتے ہیں۔ کسی کا اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد اس کے نام سے دوستوں اور عزیزوں کو پیغامات بھیجے جاتے ہیں، رقم مانگی جاتی ہے یا مشکوک روابط کھولنے پر آمادہ کیا جاتا ہے،چونکہ پیغام کسی اجنبی کے بجائے اپنے ہی کسی عزیز کے نام سے آتا ہے، اس لئے لوگ اکثر تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ہر شہری کو یہ اصول یاد رکھنا چاہئے کہ کسی بھی پیغام، کال یا رقم کی درخواست کو صرف بھیجنے والے کے نام کی بنیاد پر درست نہ مانا جائے۔مالی درخواست کی صورت میں متعلقہ شخص کو کسی دوسرے، پہلے سے معلوم ذریعے سے فون کرکے تصدیق کی جائے۔ واٹس ایپ اور دیگر اہم اکاؤنٹس پر دو مرحلوں والی تصدیق فعال رکھی جائے، تصدیقی کوڈ کسی کو نہ دیا جائے۔یہ بار بار بتایا جاتا ہے کہ اپنا پن کوڈ، پاس ورڈ، ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) یا دیگر خفیہ تصدیقی کوڈ کسی غیر مصدقہ شخص کو مت بتائیں لیکن اس کے باوجود نقصان کا دائرہ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔
سم بلاکنگ اور بینکنگ فراڈ کے حوالے سے ٹیلی فون آفیسر تک پہنچنے کا عمل اتنا طویل رکھا گیا ہے کہ اس تک پہنچتے پہنچتے بیشتر نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ فراڈ کیسز میں حکومتی اداروں کی کارکردگی بھی بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے جہاں نقصان اٹھانے والے کو یہاں تک رسائی اور اپنے ہونے والے نقصان کی پیروی میں مزید تکلیف اور مالی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وفاقی تحقیقاتی اداروں، سائبر کرائم کے شعبہ جات،مالیاتی نگران اداروں، بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے درمیان موثر اور تیز تر رابطے کا فقدان ان جرائم کے بڑھنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ متاثرہ شخص ایک طرف مالی اور ذہنی صدمے سے دوچار ہوتا ہے اور دوسری طرف اسے غیر ضروری پیچیدگیوں اور اداروں کے درمیان چکر لگانے والی کٹھ پتلی بنا کر ستم بالائے ستم والا معاملہ بنا دیا جاتا ہے اور اس صورت میں زیادہ تر متاثرہ شخص خاموشی کو ہی عافیت سمجھنے لگتا ہے۔
قانون کا مقصد صرف مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ جرم کے امکانات کم کرنا اور شہری کے اعتماد کو بحال کرنا بھی ہے جس کا شاید اس وقت سب سے زیادہ فقدان ہے۔حکومتی اقدامات اور ادارہ جاتی اصلاحات اپنی جگہ، لیکن شہریوں کی ذاتی احتیاط بھی ناگزیر ہے۔ کسی خوف میں فوراً مبتلا ہونے اور کسی انعام کی خبر آنے پرلالچ میں پڑ جانے کی بجائے حواس اور اوسا ن کو بحال رکھا جائے تو بیشتر نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ڈیجیٹل فراڈ کی کامیابی کا وقت بہت کم ہوتا ہے اور ذرا سے صبر اور احتیاط سے اس سے بچنا ممکن ہے۔اس فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر اس سے آگاہی مہم کا دائرہ بزرگوں،بچوں،سکولوں، کالجوں، جامعات، مساجد، کمیونٹی مراکز ا تک پھیلانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
ڈیجیٹل فراڈ صرف ٹیکنالوجی کا ہی مسئلہ نہیں،بلکہ اس میں اخلاقی زوال، کمزور نگرانی، ناکافی آگاہی اور لاقانونیت کا بڑھتا ہوا رجحان بھی اضافے کا سبب ہیں،جو ادارہ شکایت سننے اور اس پر فوری عملدرآمد میں غفلت کرتا ہے وہ بھی ان بڑھتے ہوئے جرائم میں کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہوتا ہے۔ٹیلی فون کمپنیوں کی اپنے صارفین کے نام اور نمبرز کی مارکیٹنگ ٹول کے طور پر فراہمی اوردیگر اداروں کا آئی ڈی کارڈ جیسی اہم شناخت تک عام رسائی کو ممکن بنانابھی اس معاملے میں بگاڑ کے بنیادی محرکات ہیں۔انفرادی احتیاط، اجتماعی شعور اور ادارہ جاتی ذمہ داری کا احساس کرنے سے ہی ان واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔
ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت تحفظ فراہم کرے، بینک اپنی خدمات محفوظ بنائیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری اور منصفانہ کارروائی کریں، ذرائع ابلاغ آگاہی پھیلائیں اور شہری ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ رحمت ہے نہ زحمت، اس کا نتیجہ ہمارے استعمال، ہمارے نظام اور ہمارے محتاط روئیے سے جڑا ہوا ہے۔اگر ہم نے شعور کو اپنی ڈھال، احتیاط کو اپنا اصول اور جواب دہی کو اپنا اجتماعی معیار بنا لیا تو ڈیجیٹل دنیا خوف کے بجائے سہولت، فریب کے بجائے اعتماد اور استحصال کے بجائے خدمت کا وسیلہ بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر سرور حسین کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 26 اکتوبر 2026 کو شائع ہوا

Leave a reply