پمز کا سانحہ: حادثہ نہیں، نظام کی ناکامی

پمز کا سانحہ: حادثہ نہیں، نظام کی ناکامی

تحریر:محمد رشید

26 اگست کی صبح اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں لگنے والی آگ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ محض ایک طبی مرکز میں آتش زدگی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس نے ہمارے صحت کے نظام، انتظامی نگرانی، ہنگامی تیاری اور انسانی ذمہ داری کے بارے میں کئی سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس سانحے کا شکار وہ نومولود بچے بنے جو اپنی حفاظت کے لیے مکمل طور پر دوسروں کے محتاج تھے۔ ان میں سے کئی بچوں کو اپنی جان بچانے کے لیے خود کچھ کرنے کی صلاحیت تک حاصل نہیں تھی۔ ایسے بچوں کے لیے آئی سی یو کا ہر لمحہ نگرانی، احتیاط اور فوری ردعمل کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر کسی ہسپتال کے ایسے حساس وارڈ میں آگ لگنے کے بعد بروقت مدد نہ پہنچ سکے تو پھر سوال صرف آگ لگنے کا نہیں رہتا، سوال پورے نظام کی اہلیت کا بن جاتا ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں آگ کی وجہ کے طور پر بجلی کے نظام یا طبی آلات میں خرابی کی باتیں سامنے آئیں۔ حتمی وجہ کا تعین بہرحال غیر جانب دار تحقیقات سے ہونا چاہیے۔ لیکن وجہ جو بھی ہو، بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا حساس ترین وارڈ میں نصب برقی اور طبی آلات کی باقاعدہ جانچ ہوتی تھی؟ کیا حفاظتی نظام فعال تھا؟ کیا عملے کو آگ لگنے کی صورت میں نومولود بچوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی تربیت حاصل تھی؟

اس واقعے میں ایک عام شہری خاتون کی جانب سے اپنے عزیز بچے کو بچانے کے لیے دھویں میں داخل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اگر یہ اطلاعات تحقیقات میں درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ ایک طرف ایک شہری کی غیر معمولی جرات کی مثال ہے اور دوسری طرف ادارہ جاتی کمزوری کا آئینہ بھی۔ کسی ماں، رشتہ دار یا عام شہری سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ انتہائی خطرناک صورتحال میں وہ کام انجام دے جو تربیت یافتہ طبی عملے اور ایمرجنسی ٹیم کی ذمہ داری ہے۔

ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کا نظام کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے ہسپتالوں میں فائر الارم، مناسب فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی راستے، بجلی کے متبادل انتظامات اور عملے کی باقاعدہ تربیت لازمی ہونی چاہیے۔ اس سے بھی بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ ان سہولتوں کا صرف کاغذوں میں موجود ہونا کافی نہ سمجھا جائے بلکہ وقتاً فوقتاً عملی مشقوں کے ذریعے دیکھا جائے کہ ایمرجنسی کی صورت میں نظام حقیقتاً کام بھی کرتا ہے یا نہیں۔

پمز جیسے بڑے تدریسی اسپتال سے تو اس معاملے میں غیر معمولی معیار کی توقع کی جاتی ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں، سینکڑوں ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین خدمات انجام دیتے ہیں اور ریاست ہر سال اربوں روپے کا بجٹ فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود اگر ایک حساس وارڈ میں آگ لگنے کے بعد بچوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کا مؤثر انتظام موجود نہ ہو تو یہ صرف ایک وارڈ کی ناکامی نہیں بلکہ انتظامی نگرانی پر سوال ہے۔

اس سانحے کا ایک اہم پہلو احتساب بھی ہے۔ کسی بھی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام اپنی جگہ ضروری ہوسکتا ہے، مگر ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں کمیٹیاں بنانا آسان اور ان کی سفارشات پر عمل درآمد مشکل ہے۔ ایک مؤثر تحقیقات کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں ہونا چاہیے کہ آگ کہاں سے لگی؛ اسے یہ بھی طے کرنا چاہیے کہ حفاظتی انتظامات کیوں ناکام ہوئے، ذمہ دار افسران نے اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کیں، آلات کی دیکھ بھال کس کی ذمہ داری تھی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا منصوبہ کہاں تھا۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر کسی فرد یا ادارے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی محض معطلی یا تبادلے تک محدود رہتی ہے یا واقعی جواب دہی کا نظام قائم ہوتا ہے۔ انتظامی عہدہ کسی شخص کو جواب دہی سے بالاتر نہیں بناتا۔

پاکستان میں سرکاری اسپتالوں میں آتش زدگی، ناقص طبی سہولتوں، ادویات کے معیار اور انفیکشن کنٹرول سے متعلق شکایات کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف شہروں میں ماضی کے واقعات نے بارہا یہ دکھایا ہے کہ سانحہ گزرنے کے بعد تحقیقات اور اعلانات تو ہوجاتے ہیں، مگر بنیادی خامیاں برقرار رہتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ عرصے بعد ایک نیا سانحہ سامنے آجاتا ہے۔

اصل مسئلہ وسائل کی کمی سے کہیں زیادہ نگرانی اور ترجیحات کا ہے۔ ایک بڑے اسپتال کے لیے جدید عمارت، مہنگے آلات اور وسیع بجٹ اہم ہیں، لیکن ان سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جو نظام بنایا گیا ہے اسے چلانے والے لوگ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ اگر فائر سیفٹی کا سامان موجود ہے مگر استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہنگامی راستہ ہے مگر کھلا نہیں، آلات نصب ہیں مگر ان کی جانچ نہیں ہوتی اور تربیت کا ریکارڈ موجود ہے مگر عملی مشق نہیں ہوتی تو ایسی سہولتیں محض اعداد و شمار بن کر رہ جاتی ہیں۔

پمز کے سانحے نے ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے رکھی ہے: ہمارے سرکاری اداروں میں عام شہری کی جان کی قیمت کے بارے میں حساسیت پیدا کرنا ہوگی۔ غریب آدمی جب سرکاری اسپتال کا رخ کرتا ہے تو وہ دراصل ریاست پر اعتماد کرکے آتا ہے۔ اس کے پاس مہنگے نجی اسپتال کا متبادل نہیں ہوتا۔ اگر وہیں اس کے بچے محفوظ نہ رہیں تو اس کے پاس شکایت کے سوا کیا رہ جاتا ہے؟

حکومت کی جانب سے فوری اجلاس اور تحقیقات کا اعلان اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ اگر تحقیقات شفاف، غیر جانب دار اور نتیجہ خیز ہوتی ہیں، ذمہ داری طے کی جاتی ہے، حفاظتی خامیاں دور کی جاتی ہیں اور ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کا فائر اور الیکٹریکل سیفٹی آڈٹ کرایا جاتا ہے تو یہ سانحہ اصلاح کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر حادثے کو قدرت کا فیصلہ قرار دے کر انسانی غفلت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں۔ قدرتی آفات اپنی جگہ، مگر ناقص وائرنگ، خراب آلات، غیر فعال فائر سیفٹی نظام، تربیت کی کمی اور انتظامی غفلت انسانی ذمہ داری کے دائرے میں آتے ہیں۔

نومولود بچوں کی ہلاکت کا دکھ صرف ان کے خاندانوں کا دکھ نہیں۔ یہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ ایک ریاست کی اصل کامیابی اس کے بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں یا بجٹ کے حجم سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہریوں کی حفاظت کتنی ذمہ داری سے کرتی ہے۔

پمز کا سانحہ ہمیں ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم صرف ذمہ داروں کے تعین تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے سرکاری طبی نظام کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہسپتالوں کے فائر سیفٹی نظام، بجلی کی تنصیبات، طبی آلات، ایمرجنسی راستوں، عملے کی تربیت اور نگرانی کے نظام کا آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔ ہر خامی کو حادثے کا انتظار کیے بغیر دور کرنا ہوگا۔

ورنہ خطرہ یہی ہے کہ آج پمز ہے، کل کوئی اور اسپتال ہوگا، اور پھر ہم ایک نئی تحقیقاتی کمیٹی، نئے بیانات اور نئے وعدوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

سانحات صرف اس وقت المیے بنتے ہیں جب ان سے سبق نہ سیکھا جائے۔ پمز کے معصوم بچوں کی قربانی کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ اس بار سبق سیکھا جائے—اور ایسا نظام بنایا جائے جس میں کسی اسپتال کی ایمرجنسی میں زندگی بچانے کے لیے بہادری دکھانے والا کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک تیار، تربیت یافتہ اور جواب دہ نظام سب سے پہلے موجود ہو۔

Leave a reply