امریکا میں ایچ ون بی ویزا کی ایک لاکھ ڈالر فیس میں مزید ایک سال کی توسیع

0
6
امریکا میں ایچ ون بی ویزا کی ایک لاکھ ڈالر فیس میں مزید ایک سال کی توسیع

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی ہنرمند کارکنوں کے لیے ایچ ون بی ویزا پر عائد ایک لاکھ ڈالر اضافی فیس کے نفاذ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس فیصلے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب نئی فیس کو امریکی عدالتوں میں قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایچ ون بی ویزا امریکی کمپنیوں کو بیرونِ ملک سے مخصوص شعبوں میں ماہر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو ملازمت کے لیے بلانے کی اجازت دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے علاوہ دیگر شعبے بھی اس پروگرام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال اس ویزا سے متعلق اضافی فیس متعارف کرائی تھی، جس کے بعد مقررہ رقم ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل متعلقہ فیس عموماً چند ہزار ڈالر کے درمیان تھی۔

عدالتوں میں قانونی چیلنج

اضافی فیس کے خلاف امریکا میں قانونی کارروائی جاری ہے۔ ایک وفاقی عدالت نے پہلے انتظامیہ کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو فیس وصول کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف معاملہ اپیل عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

دوسری جانب امریکی کاروباری حلقوں کی جانب سے فیس کو چیلنج کرنے سے متعلق مقدمے پر بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔

ٹرمپ نے پہلی مرتبہ یہ حکم ستمبر 2025 میں جاری کیا تھا۔ اس کی مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل اب اسے مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

کن افراد پر فیس لاگو نہیں ہوگی؟

نئے حکم کے تحت وہ غیر ملکی طلبہ جو پہلے ہی امریکا میں قانونی طور پر موجود ہیں اور بعد میں ایچ ون بی اسٹیٹس حاصل کرتے ہیں، اس اضافی فیس کی زد میں نہیں آئیں گے۔

اسی طرح موجودہ ایچ ون بی ویزا کی تجدید بھی اس ایک لاکھ ڈالر فیس سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہے۔

ایچ ون بی پروگرام پر اختلاف

امریکا میں ایچ ون بی پروگرام کے حوالے سے طویل عرصے سے مختلف آرا موجود ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس پروگرام کے ذریعے کم لاگت پر غیر ملکی ملازمین بھرتی کرکے مقامی کارکنوں سے مقابلہ کرواتی ہیں۔

اس کے برعکس کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ایچ ون بی ویزا ایسے شعبوں میں ماہر افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں مددگار ہے جہاں امریکی مارکیٹ میں مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد دستیاب نہیں ہوتے۔

یہ پروگرام 1990 میں امریکی کانگریس نے متعارف کرایا تھا اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں اس کا نمایاں کردار رہا ہے۔ بھارت اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین اس پروگرام کے بڑے مستفیدین میں شمار ہوتے ہیں۔

حالیہ عرصے میں ویزا درخواستوں کی جانچ اور منظوری کے طریقہ کار میں تبدیلیوں نے بھی بعض کمپنیوں کی عالمی بھرتیوں اور توسیعی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔ کچھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکا کے ساتھ ساتھ بھارت میں اپنی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو بڑھانے پر توجہ دی ہے۔

Leave a reply