پاکستان سے بڑھتی ہجرت: کیا نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ وطن بھی چھوڑ رہے ہیں؟

پاکستان سے بڑھتی ہجرت: کیا نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ وطن بھی چھوڑ رہے ہیں؟

تحریر:نور فاطمہ

پاکستان سے بڑھتی ہجرت: کیا نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ وطن بھی چھوڑ رہے ہیں؟

پاکستان کے ہوائی اڈوں پر آئے روز جعلی سفری دستاویزات کے ساتھ پکڑے جانے والے مسافروں کی خبریں ایک ایسے تلخ سوال کو جنم دیتی ہیں جسے نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں: آخر لوگ ہر خطرہ مول لے کر ملک چھوڑنے پر کیوں آمادہ ہیں؟

بے روزگاری، مہنگائی، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بہتر مستقبل کی تلاش نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کو بیرونِ ملک روزگار کی طرف راغب کیا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں افرادی قوت کی طلب بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد مناسب ملازمت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ یہی فرق بہت سے لوگوں کو قانونی یا بعض اوقات غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک اس بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ بھاری رقوم وصول کرکے لوگوں کو جعلی ویزوں، جعلی پاسپورٹوں یا دیگر جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجنے کے خواب دکھاتے ہیں۔ نتیجہ اکثر یہ نکلتا ہے کہ مسافر ایئرپورٹ پر گرفتار ہو جاتے ہیں، ڈی پورٹ کر دیے جاتے ہیں یا قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ اصل فائدہ اٹھانے والے عناصر کئی مرتبہ قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف غیر قانونی ہجرت کا نہیں بلکہ ریاستی نظام، روزگار، تعلیم، مہارت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر نگرانی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر نوجوانوں کو ملک کے اندر بہتر مواقع، شفاف نظام اور مستقبل کی امید ملے تو غیر قانونی راستوں کی کشش خود بخود کم ہو سکتی ہے۔

بیرونِ ملک جانا ہر شخص کا حق ہے، لیکن یہ سفر قانونی ذرائع، درست دستاویزات اور محفوظ طریقوں سے ہونا چاہیے۔ غیر قانونی ہجرت نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ خاندانوں کو ذہنی اذیت اور افراد کو سنگین قانونی مسائل سے بھی دوچار کر دیتی ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف لوگوں کو روکنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جہاں نوجوان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنے ہی وطن کو بہترین انتخاب سمجھیں۔

Leave a reply