نئے صوبے عوام کی ضرورت یا سیاسی کھیل؟

نئے صوبے عوام کی ضرورت یا سیاسی کھیل؟

تحریر:محمد رشید

پاکستان ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف حکومتیں نہیں بلکہ پورا نظام سوالوں کی زد میں ہے۔ مہنگائی، بدانتظامی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی بے چینی نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں “نئے صوبوں” کا مطالبہ دوبارہ زور پکڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نئے صوبے پاکستان کے مسائل کا حل ہیں، یا یہ ایک نئی سیاسی کشمکش کی ابتدا ہے؟

گزشتہ چند ہفتوں سے سیاسی حلقوں میں ایسی تجاویز گردش کر رہی ہیں جن میں کہیں 12 نئے انتظامی یونٹس، کہیں 32 صوبے اور کہیں ڈویژنل سطح پر نئے صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ بعض حلقے تو کراچی، لاہور اور گوادر کو وفاق کے زیرِ انتظام لانے کی تجاویز بھی دے رہے ہیں۔ اگر یہ سب حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو پاکستان کا انتظامی نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف نقشہ بدلنے سے نظام بھی بدل جائے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران صرف صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ گورننس کا بحران ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات، انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی میں ناکامی نے لوگوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر نئی تجویز امید بھی دکھائی دیتی ہے اور خدشہ بھی پیدا کرتی ہے۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو وسیع اختیارات تو مل گئے، مگر کیا یہ اختیارات عوام تک پہنچ سکے؟ جواب زیادہ تر ماہرین کے نزدیک “نہیں” ہے۔ صوبائی حکومتوں نے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے انہیں اپنے ہاتھوں میں مرکوز رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی حکومتیں کمزور ہوئیں، اضلاع ترقی سے محروم رہے اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہوتا گیا۔

اسی خلا نے نئے صوبوں کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

تاہم نئے صوبوں کی تشکیل کوئی سادہ انتظامی فیصلہ نہیں۔ اس کے لیے آئینی ترامیم، سیاسی اتفاقِ رائے، مالی وسائل، انتظامی ڈھانچہ اور عوامی حمایت جیسے کئی بڑے مراحل درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں، جہاں ہر اہم فیصلہ شدید اختلافات کا شکار ہو جاتا ہے، ایسے منصوبے پر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔

خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبوں میں نئے صوبوں کی تشکیل مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ وہاں پہلے ہی سیاسی، سکیورٹی اور انتظامی چیلنجز موجود ہیں، اس لیے کسی بھی جلد بازی کا نتیجہ نئے تنازعات کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر واقعی اصلاحات مقصود ہیں تو پہلا قدم نئے صوبے نہیں بلکہ مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتیں ہونی چاہئیں۔ جب ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر اختیارات، وسائل اور فیصلے منتقل ہوں گے تو عوام کو فوری ریلیف ملے گا اور بڑے انتظامی بحران بھی کم ہو سکتے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک نے نئے صوبے یا ریاستیں بنانے سے پہلے برسوں تحقیق، کمیشنز اور عوامی مشاورت کا راستہ اختیار کیا۔ پاکستان میں بھی اگر ایسی کوئی تبدیلی ناگزیر سمجھی جاتی ہے تو اسے سیاسی نعروں کے بجائے حقائق، اعدادوشمار اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔

آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہوں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا عام شہری کی زندگی بہتر ہوگی؟ اگر اختیارات چند ہاتھوں تک محدود ہی رہے تو چاہے چار صوبے ہوں یا چالیس، عوام کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔

پاکستان کو اس وقت جذباتی فیصلوں سے زیادہ سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کی بحث ضرور ہونی چاہیے، مگر اس کا مقصد سیاسی فائدہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے۔ یہی راستہ ملک کو تقسیم نہیں بلکہ مضبوط بنا سکتا ہے۔

Leave a reply