کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے جا رہے ہیں؟ پسِ پردہ کیا چل رہا ہے؟

پاکستان میں ایک بار پھر نئے صوبوں کی بحث زور پکڑ چکی ہے۔ حکومتی شخصیات کے بیانات، سیاسی ردِعمل اور سوشل میڈیا پر گردش کرتے مختلف نقشوں نے عوام میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا واقعی ملک کی موجودہ جغرافیائی تقسیم بدلنے والی ہے، یا یہ صرف ایک سیاسی بحث ہے؟
حالیہ دنوں وفاقی وزرا کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی ضرورت پر زور دینے کے بعد سوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں بڑھ گئیں۔ مختلف دعوے کیے جانے لگے کہ جلد ہی پاکستان کا نقشہ تبدیل ہونے والا ہے، تاہم حکومت نے اب تک کسی مجوزہ نقشے یا منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئینِ پاکستان کے مطابق نئے صوبے بنانا اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔ اس کے لیے آئین کی متعدد شقوں میں ترمیم، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت، اور اگر کسی موجودہ صوبے کی تقسیم مقصود ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی بھی دو تہائی اکثریت سے منظوری لازمی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے مؤقف بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کچھ جماعتیں جنوبی پنجاب یا ہزارہ صوبے کی حامی ہیں، جبکہ بعض دیگر صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہیں۔ یہی اختلاف اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ سیاسی ماحول میں اتنا وسیع اتفاقِ رائے ممکن ہے؟ پارلیمان میں کسی ایک جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں، جس کے باعث کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے تمام بڑی سیاسی قوتوں کا ایک صفحے پر آنا ضروری ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے صوبوں کی یہ بحث صرف بیانات تک محدود رہتی ہے یا آنے والے دنوں میں کوئی عملی پیش رفت بھی سامنے آتی ہے۔ فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام محض ایک اعلان سے نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ آئینی و سیاسی عمل سے مشروط ہے۔









