معاشی استحکام: اعداد و شمار سے عوامی ریلیف تک

معاشی استحکام: اعداد و شمار سے عوامی ریلیف تک

تحریر:عبداللہ

پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک مشکل اور غیر یقینی دور سے گزری ہے۔ کبھی بیرونی ادائیگیوں کا بحران، کبھی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، کبھی روپے کی قدر میں تیزی سے اتار چڑھاؤ اور کبھی عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات نے معاشی منظرنامے کو مسلسل متاثر کیا۔ ایسے ماحول میں اگر آج معیشت میں کسی حد تک استحکام دکھائی دیتا ہے تو اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ استحکام اور حقیقی معاشی ترقی دو الگ مرحلے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات اور انتظامی اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت کو ایک مشکل مرحلے سے نکالا گیا ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں نسبتاً بہتر اشارے بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے معاشی مستقبل کے بارے میں اعتماد میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات میں بہتری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ حالیہ رابطے بھی پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ انفراسٹرکچر، توانائی، ٹرانسپورٹ، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون ملک کی طویل مدتی معاشی سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً کراچی سے پشاور تک ریلوے کے مرکزی راستے کی بہتری جیسے منصوبے صرف سفری سہولت کا معاملہ نہیں بلکہ صنعتی، تجارتی اور علاقائی رابطوں کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ معاشی استحکام کا یہ عمل عام آدمی تک کب اور کیسے پہنچے گا؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب محض سرکاری اعداد و شمار سے نہیں دیا جا سکتا۔ اگر مالیاتی خسارہ کم ہو رہا ہے، ٹیکس وصولیاں بڑھ رہی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے ہیں تو یہ یقیناً مثبت پیش رفت ہے، مگر دوسری طرف اگر بجلی کے بل، پٹرول کی قیمتیں، اشیائے ضروریہ کے نرخ اور روزگار کے مسائل عوام کی زندگی مشکل بنا رہے ہوں تو معاشی کامیابی کا پیمانہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے کہ میکرو اکنامک استحکام اور عام شہری کی معاشی حالت کے درمیان ایک بڑا فاصلہ موجود ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس فاصلے کو کم کرنے کو اپنی معاشی پالیسی کا مرکزی مقصد بنائے۔

توانائی کا شعبہ اس سلسلے میں سب سے اہم مثال ہے۔ مہنگی بجلی صنعتی پیداوار، زراعت، تجارت اور گھریلو بجٹ سب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر سرچارجز کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں مسلسل تبدیلی کاروباری منصوبہ بندی کو بھی مشکل بناتی ہے۔ ایک صنعت کار کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس کی پیداواری لاگت کیا ہوگی۔ اگر توانائی کی قیمت مسلسل غیر یقینی رہے گی تو نئی سرمایہ کاری کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔

اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو اس کا اثر بالآخر اشیائے خورونوش سے لے کر صنعتی مصنوعات تک ہر چیز پر پڑتا ہے۔ اس لیے توانائی کی پائیدار اور نسبتاً سستی فراہمی کو معاشی بحالی کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

دوسرا اہم شعبہ ٹیکس نظام ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹیکس کا بوجھ کن طبقات پر پڑ رہا ہے۔ معیشت کو دستاویزی بنانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور غیر دستاویزی سرگرمیوں کو باقاعدہ نظام میں لانے کے لیے ایسی اصلاحات درکار ہیں جو کاروبار کو ختم کرنے کے بجائے اسے فروغ دیں۔

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ یہی کاروبار روزگار پیدا کرتے ہیں، مقامی منڈیوں کو متحرک رکھتے ہیں اور متوسط طبقے کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر چھوٹے کاروباری افراد کو آسان قرض، کم پیچیدہ ٹیکس نظام، بہتر بجلی، قانونی تحفظ اور کم سرخ فیتہ فراہم کیا جائے تو وہ معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ بن سکتی ہیں، مگر ان دونوں کے لیے شفافیت، مضبوط ریگولیٹری نظام اور بہترین انتظامی صلاحیت بنیادی شرط ہے۔ صرف سرکاری ادارے نجی شعبے کے حوالے کر دینا کافی نہیں؛ اصل کامیابی تب ہوگی جب اداروں کی کارکردگی بہتر ہو، صارفین کو بہتر خدمات ملیں اور قومی وسائل کا ضیاع کم ہو۔

پاکستان کے مالیاتی اداروں میں بھی جدید انتظامی طریقہ کار اور کسٹمر سروس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل بینکاری کے دور میں عام شہری کو معمولی مالیاتی کام کے لیے غیر ضروری انتظار اور کاغذی کارروائی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری اور نجی دونوں اداروں میں عملے کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور کارکردگی پر مبنی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

معاشی ترقی کا ایک اور اہم پہلو علاقائی عدم مساوات ہے۔ ملک کے تمام صوبوں اور اضلاع کو یکساں معاشی مواقع فراہم کیے بغیر قومی سطح پر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں امن و امان کے مسائل کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں سرمایہ کاری، صنعت اور جدید کاروبار کا ڈھانچہ ابھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکا۔

صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مقامی کاروباری طبقے کو سہولت دیں، ون ونڈو آپریشنز قائم کریں، زمین اور کاروباری اجازت ناموں کے معاملات آسان بنائیں اور ایسے اضلاع میں خصوصی معاشی زونز اور کاروباری مراکز قائم کریں جہاں نجی سرمایہ کاری کم ہے۔

وفاقی حکومت بھی پسماندہ علاقوں کے لیے مخصوص سرمایہ کاری پالیسی تشکیل دے سکتی ہے۔ ٹیکس مراعات، انفراسٹرکچر، آسان فنانسنگ اور سیکیورٹی کی بہتر صورتحال ایسے اقدامات ہیں جو سرمایہ کاروں کو بڑے شہروں سے نکل کر دوسرے علاقوں کا رخ کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

معاشی پالیسی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اعداد و شمار کو انسانی زندگی میں بہتری میں کیسے تبدیل کرتی ہے۔ اگر برآمدات بڑھتی ہیں، تو اس کا نتیجہ روزگار میں اضافہ ہونا چاہیے۔ اگر ٹیکس وصولی بڑھتی ہے، تو اس کے نتیجے میں عوامی خدمات بہتر ہونی چاہئیں۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاری آتی ہے، تو اس سے نئی صنعتیں اور نئے مواقع پیدا ہونے چاہئیں۔

پاکستان نے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کئی مشکل فیصلے کیے ہیں۔ اب اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہمیں صرف بحران سے بچنے والی معیشت نہیں بلکہ مسلسل ترقی کرنے والی معیشت بنانا ہوگی۔

اس مقصد کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات، سستی توانائی، مضبوط برآمدات، فعال نجی شعبہ اور ہنرمند افرادی قوت بنیادی ستون ہیں۔ حکومت اگر اصلاحات کے عمل کو مستقل مزاجی سے آگے بڑھاتی ہے اور اس کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے پر توجہ دیتی ہے تو پاکستان معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کر سکتا ہے۔

آخرکار کسی بھی معیشت کی کامیابی کا سب سے معتبر پیمانہ یہ نہیں کہ سرکاری فائلوں میں کتنے اعداد و شمار بہتر ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی، نوجوانوں کے لیے کتنے روزگار پیدا ہوئے، کاروبار شروع کرنا کتنا آسان ہوا اور گھر کا بجٹ کس حد تک قابلِ برداشت بنا۔

پاکستان کو اب معاشی بحرانوں کے چکر سے نکل کر مستقل، جامع اور عوام دوست معاشی ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہی اگلا اور اصل امتحان ہے۔

Leave a reply