اقتدار کی جنگ اور خاموش ہوتا پاکستان

اقتدار کی جنگ اور خاموش ہوتا پاکستان

تحریر:نور فاطمہ

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر کشیدگی، بیانات، احتجاج اور باہمی الزام تراشی کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت اپنے اقدامات کو کامیابی قرار دیتی ہے جبکہ اپوزیشن انہیں ناکامیوں کا تسلسل سمجھتی ہے۔ ایک طرف سیاسی رہنماؤں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں اور دوسری طرف عام آدمی اپنے روزمرہ مسائل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس سیاسی کشمکش کے درمیان عوام کہاں کھڑے ہیں؟
ایک عام پاکستانی کے لیے سیاست سے زیادہ اہم روزگار، مناسب آمدن، سستی بجلی، قابلِ برداشت پٹرول، معیاری تعلیم، بہتر علاج اور محفوظ مستقبل ہے۔ اگر ایک نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے باوجود روزگار نہ پا سکے، اگر ایک گھر کا سربراہ بڑھتے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان رہے اور اگر ہنرمند افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں تو ہمیں بطور قوم رک کر سوچنا ہوگا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان سفر کرتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور عوام اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی حکومت یا اپوزیشن کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے اپنے سیاسی مخالف کو کتنا زیر کیا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس نے عام آدمی کی زندگی میں کتنی بہتری پیدا کی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف سڑکوں پر بھی نکلیں، پارلیمنٹ میں بھی لڑیں اور عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتی رہیں۔ مگر ہر سیاسی بحران کے بعد سب سے زیادہ قیمت عام شہری نے ادا کی۔ کاروبار متاثر ہوئے، سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہوا، روزگار کے مواقع کم ہوئے اور ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا۔
اس لیے آج کی قیادت کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ حکومت کو بھی اپوزیشن کی جائز آواز سننی چاہیے اور اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج اور سیاسی دباؤ کے ساتھ قومی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اگر مذاکرات کا راستہ موجود ہو تو اسے بند نہیں ہونا چاہیے۔
ملک اس وقت ایسی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں ہر مسئلے کا حل سڑک، دھرنا یا لانگ مارچ سمجھ لیا جائے۔ اسی طرح حکومت کے لیے بھی یہ کافی نہیں کہ وہ عالمی سطح پر ہونے والے معاہدوں، بیرونی روابط یا معاشی اعداد و شمار کو اپنی کامیابی قرار دے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس کا اثر عام آدمی کے گھر تک پہنچے گا۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے والے پاکستانی محض افرادی قوت نہیں بلکہ اس ملک کا سرمایہ ہیں۔ اگر نوجوان اپنے مستقبل کے لیے پاکستان کے بجائے دوسرے ممالک کو ترجیح دینے لگیں تو یہ محض روزگار کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ قومی معیشت اور مستقبل کی سمت کا سوال بن جاتا ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے مسئلے کو سیاسی نعروں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے طویل المدتی معاشی پالیسی، صنعتی ترقی، کاروبار کے لیے آسان ماحول، توانائی کی مناسب قیمت، ہنر مندی کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کی سیاست کا مرکز اقتدار ہے یا پاکستان۔
اگر اقتدار ہی آخری منزل ہے تو سیاسی لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن اگر منزل ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان ہے تو پھر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے سے بات کرنا ہوگی۔
آج ملک کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی مفادات سے بلند ہو کر قومی مفاد کو دیکھ سکیں۔ ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جن کے نتائج پانچ سال نہیں بلکہ اگلی نسلوں تک نظر آئیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام کو شکست دینا ہوگی۔
عوام نے ہر دور میں سیاسی جماعتوں کو موقع دیا ہے۔ اب عوام کا حق ہے کہ ان کی مشکلات کو بھی سیاسی ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنایا جائے۔
اقتدار عارضی ہے، عہدے عارضی ہیں، سیاسی مقبولیت بھی وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے؛ لیکن ملک مستقل ہے۔
اس لیے حکومت بھی سوچے، اپوزیشن بھی سوچے، سیاسی قیادت بھی سوچے اور فیصلہ ساز بھی سوچیں کہ آنے والی نسلیں آج کے فیصلوں کو کس نظر سے دیکھیں گی۔
اب بھی وقت ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم کیا جائے، مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، اداروں کا احترام یقینی بنایا جائے اور عوام کے حقیقی مسائل کو ترجیح دی جائے۔
پاکستان کو مزید تقسیم نہیں، استحکام چاہیے۔
پاکستانی عوام کو مزید وعدے نہیں، عملی ریلیف چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست اپنی جگہ، اختلاف اپنی جگہ، مگر ملک و قوم سب سے پہلے ہیں۔

Leave a reply