
ملیریا ایک سنگین بیماری ہے جو مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ روایتی طور پر اس سے بچاؤ کے لیے مچھروں کو مارنے یا ان سے بچنے کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم اب سائنسدان ایک نئی اور جدید حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں جس میں مچھروں کی جینیاتی ساخت میں تبدیلی کی جاتی ہے تاکہ وہ بیماری پھیلانے کے قابل نہ رہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ روایتی اقدامات سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں براہ راست مچھر کی نسل اور اس کی خصوصیات کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ “جین ڈرائیو” نامی ٹیکنالوجی کے ذریعے مخصوص جینیاتی خصوصیات کو مچھر کی پوری آبادی میں تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے، جس سے ملیریا جیسے امراض کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس حکمت عملی میں دو بنیادی طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ پہلے طریقے میں مچھروں کو اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ ملیریا کے جراثیم کو اپنے جسم میں بڑھنے نہیں دیتے، اور یہ خصوصیت ان کی آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہو جاتی ہے۔ دوسرے طریقے میں مچھروں کی افزائشِ نسل کے نظام میں تبدیلی کر کے مادہ مچھروں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹ کر بیماری پھیلاتی ہیں۔
مختلف ممالک میں کیے گئے ابتدائی تجربات کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر چھوڑنے سے بعض علاقوں میں مچھر کی آبادی اور بیماری پھیلانے کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح دیگر مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے ڈینگی اور زیکا پر بھی اس ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ طریقہ بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔ ان میں ماحولیاتی نظام پر ممکنہ اثرات اور جینیاتی تبدیلیوں کے طویل مدتی نتائج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، فطرت میں تبدیل شدہ جانداروں کے اخراج سے متعلق اخلاقی اور قانونی پہلو بھی زیرِ بحث ہیں۔
مجموعی طور پر سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی روایتی حفاظتی اقدامات کے ساتھ مل کر ملیریا جیسے خطرناک مرض کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔








