معاشرہ کب جاگے گا؟

کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند عمارتیں، کشادہ سڑکیں یا بڑے بڑے منصوبے نہیں ہوتے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں ایک کمزور انسان خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اگر ایک بچی خوف میں زندگی گزارے، ایک غریب انصاف کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے تھک جائے، ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں مایوسی کا شکار ہو جائے اور ایک خاندان اپنے ہی محلے میں اجنبی بن جائے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔
ہم اکثر ہر خرابی کی ذمہ داری حکمرانوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ یقیناً ریاست کی ذمہ داری سب سے بڑی ہے۔ پولیس، عدالت، تعلیم، صحت، روزگار اور شہری سہولتیں فراہم کرنا ریاستی فرائض میں شامل ہیں۔ لیکن معاشرہ صرف سرکاری دفاتر سے تشکیل نہیں پاتا۔ گھر، اسکول، مسجد، بازار، میڈیا، سیاسی جماعتیں اور محلے بھی انسان کی شخصیت بناتے ہیں۔
آج ہمارے گھروں میں سہولتیں شاید پہلے سے زیادہ ہیں، مگر ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کبھی کبھی ایک دوسرے سے زیادہ اپنے موبائل فون سے جڑے ہوتے ہیں۔ بچوں کے سوال سننے، ان کی پریشانی سمجھنے اور ان کے دوستوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے بجائے ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ صرف اچھے کپڑے، مہنگا اسکول اور جیب خرچ دینا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔
تربیت صرف نصیحت کا نام نہیں۔ بچے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ والدین کمزور کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، ملازم سے کس لہجے میں بات کرتے ہیں، قانون کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں، جھوٹ کو معمول سمجھتے ہیں یا سچ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر گھر میں طاقتور ہونا ہی کامیابی کی علامت بنا دیا جائے تو پھر معاشرے میں رحم، برداشت اور انصاف کہاں سے آئے گا؟
ہمیں اپنے محلوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ پہلے پڑوسی صرف گھر کے ساتھ رہنے والا شخص نہیں ہوتا تھا، بلکہ ضرورت کے وقت سہارا ہوتا تھا۔ آج کئی جگہوں پر لوگ برسوں ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کا حال تک نہیں جانتے۔ یہی اجنبیت معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہوں وہاں برائی کو چھپانا مشکل ہوتا ہے اور مشکل وقت میں مدد کرنا آسان۔
ہمیں ہر محلے میں ایسی اجتماعی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جہاں بچے کھیل سکیں، نوجوان اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکیں، خواتین باوقار ماحول میں جمع ہو سکیں اور بزرگ اپنی زندگی کے تجربات نئی نسل تک منتقل کر سکیں۔ کمیونٹی صرف عمارت کا نام نہیں؛ کمیونٹی دراصل باہمی اعتماد کا نام ہے۔
نوجوانوں کی صورتحال بھی ہماری فوری توجہ چاہتی ہے۔ ایک بڑی نوجوان آبادی کسی ملک کے لیے بہت بڑی طاقت ہو سکتی ہے، لیکن اگر تعلیم اور روزگار کے راستے محدود ہوں تو یہی طاقت مایوسی میں بدل سکتی ہے۔ نوجوان کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ محنت کرو۔ اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ محنت کے بعد آگے بڑھنے کا راستہ کہاں ہے۔ ہنر، معیاری تعلیم، انٹرن شپ، کاروباری مواقع اور باعزت روزگار کے دروازے کھولنا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
جرائم میں اضافے کا علاج صرف سخت سزائیں نہیں۔ سزا ضروری ہے، مگر جرم کی جڑوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ گھریلو تشدد، منشیات، بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، کمزور قانونی نظام اور سماجی تنہائی جیسے عوامل پر بھی سنجیدہ تحقیق ہونی چاہیے۔ یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو صرف ڈگریاں دینے والے مراکز نہیں بلکہ معاشرے کے نبض شناس ادارے بننا ہوگا۔
مذہبی اداروں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ عبادت انسان کو خدا سے جوڑتی ہے، مگر اس کا اثر انسانوں کے ساتھ ہمارے رویے میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔ اگر ہم عبادات میں اضافہ دیکھیں لیکن جھوٹ، ظلم، بددیانتی، تشدد اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے میں بھی اضافہ ہو تو ہمیں اپنے اجتماعی رویے کا جائزہ لینا ہوگا۔ دین صرف الفاظ نہیں، کردار بھی ہے۔
میڈیا کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ معاشرے کے زخم صرف دکھائے گا یا ان کے علاج پر بھی گفتگو کرے گا۔ ہر واقعے کو سنسنی میں تبدیل کرنے کے بجائے عوامی مسائل، کامیاب سماجی تجربات، مثبت کرداروں اور قابلِ عمل حل کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کو انتخابی موسم کی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر اپنے کارکنوں کو سماجی خدمت اور شہری آگاہی سے جوڑنا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں یہ خیال ترک کرنا ہوگا کہ تبدیلی ہمیشہ کوئی دوسرا شخص لائے گا۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے، ادارے اپنا کام کریں، مگر شہری بھی اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ ہم ٹریفک قانون کی پابندی سے لے کر پڑوسی کی مدد تک، بچے کی تربیت سے لے کر ووٹ کے درست استعمال تک، ہر سطح پر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
ایک صحت مند معاشرہ ایک دن میں نہیں بنتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے رویوں سے تشکیل پاتا ہے۔ جب والدین بچوں کو عزت دینا سکھاتے ہیں، استاد طالب علم کو صرف نمبر نہیں بلکہ کردار دینا سکھاتا ہے، تاجر دیانت کو کاروباری اصول بناتا ہے، پڑوسی مشکل وقت میں دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور ریاست کمزور شہری کو انصاف فراہم کرتی ہے تو معاشرہ آہستہ آہستہ بدلنے لگتا ہے۔
ہمیں بڑے نعروں سے زیادہ چھوٹی مگر مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔ اپنے گھر سے آغاز، اپنے محلے تک توسیع اور پھر شہر اور ملک تک سفر۔
اگر ہم نے بے حسی کو معمول سمجھ لیا تو جرائم صرف خبروں میں نہیں رہیں گے، وہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے یہ طے کر لیا کہ کسی کمزور کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش نہیں رہنا، کسی بچے کی تربیت کو معمولی نہیں سمجھنا، کسی نوجوان کی مایوسی کو نظرانداز نہیں کرنا اور کسی پڑوسی کو تنہا نہیں چھوڑنا تو تبدیلی ممکن ہے۔
قومیں صرف وسائل سے نہیں، اپنے اجتماعی کردار سے مضبوط ہوتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ معاشرہ بے حس کیوں ہو گیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی بے حسی ختم کرنے کے لیے آج کیا کرنے والے ہیں؟









