حوثی حملے، سعودی سلامتی اور پاکستان کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک بار پھر اس مقام پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایک ملک میں جاری تنازع کی چنگاریاں سرحدیں عبور کرکے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور معاشی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے نہ صرف ریاض کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھائے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی اور دفاعی سوال کھڑا کردیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی تعاون نے اس صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان کے مطابق اس معاہدے کی روح یہ ہے کہ کسی رکن ریاست کے خلاف جارحیت کو صرف اسی ملک کا مسئلہ نہیں سمجھا جائے گا۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تینوں ممالک ہر علاقائی تنازع میں خود بخود جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔
یہ فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
یمن کا بحران بنیادی طور پر ایک پیچیدہ علاقائی تنازع ہے، جس میں مقامی سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ کئی علاقائی طاقتوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔ اگر اس تنازع کا دائرہ سعودی سرزمین تک وسیع ہوتا ہے تو صورتحال کی نوعیت تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس مرحلے پر سعودی عرب کی سلامتی محض ایک دوطرفہ مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کے لیے اپنے دفاعی وعدوں، علاقائی ذمہ داریوں اور سفارتی ترجیحات میں توازن قائم کرنے کا امتحان بھی بن جائے گی۔
پاکستان کے لیے سب سے بہتر راستہ یہ ہوگا کہ وہ دفاعی عزم کے ساتھ سفارتی دروازے بھی کھلے رکھے۔ کسی بھی فوجی معاہدے کی اصل طاقت صرف اس وقت سامنے نہیں آتی جب جنگ شروع ہو جائے؛ ایک مضبوط دفاعی شراکت داری کا بڑا مقصد مخالف فریق کو یہ پیغام دینا بھی ہوتا ہے کہ جارحیت کی قیمت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
اسی لیے پاکستان کو جذباتی بیانات کے بجائے واضح، محتاط اور اصولی پالیسی اپنانا ہوگی۔ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ یمن کا بحران مزید پھیلنے سے روکا جائے۔
خطے میں پہلے ہی کئی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک نیا فوجی محاذ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ سعودی عرب پر حملے جاری رہتے ہیں تو عالمی توانائی منڈی، تجارتی راستے اور علاقائی معیشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے معاملہ صرف میزائلوں اور ڈرونز تک محدود نہیں رہتا۔
پاکستان کے لیے ایک اور اہم پہلو اس کی اپنی معاشی اور داخلی ضروریات ہیں۔ ملک کسی طویل علاقائی جنگ کا بوجھ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ چنانچہ دفاعی معاہدے کی پاسداری اور براہِ راست جنگ میں شمولیت کے درمیان فرق کو پالیسی سازی میں نمایاں رکھنا ہوگا۔
موجودہ بحران میں ترکیہ کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر تینوں ممالک دفاعی تعاون کو مؤثر بنانا چاہتے ہیں تو انہیں مشترکہ طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھانا چاہیے۔ طاقت کا مظاہرہ صرف جنگ کے لیے نہیں، جنگ روکنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف اصولی طور پر واضح ہونا چاہیے: کسی بھی ریاست کی سرزمین کو بلاجواز حملوں کا نشانہ نہیں بننا چاہیے، لیکن علاقائی تنازعات کا حل مزید جنگ کے ذریعے تلاش کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
آنے والے دنوں میں اصل امتحان الفاظ کا نہیں بلکہ فیصلوں کا ہوگا۔ اگر سعودی عرب کی سرزمین پر حملے بڑھتے ہیں تو پاکستان کو اپنے دفاعی وعدوں، قومی مفاد اور علاقائی امن—تینوں کو ایک ہی ترازو میں رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔
اس وقت سب سے دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی ہے کہ دفاعی تیاری مضبوط رکھی جائے، مگر سفارتی راستہ بند نہ کیا جائے۔ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کو آج ایک اور جنگ سے زیادہ ایک ایسے فریق کی ضرورت ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود امن کا راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔









