نوجوانوں کو حقیر سمجھنے کی قیمت

کبھی کبھی ایک جملہ صرف جملہ نہیں رہتا۔
وہ چنگاری بن جاتا ہے۔
ایک ایسا لفظ، جو بولنے والے کے نزدیک شاید چند لمحوں کا طنز ہو، مگر سننے والوں کے لیے پوری نسل کی توہین بن جائے۔ پھر یہی توہین غصے میں بدلتی ہے، غصہ احتجاج میں، احتجاج تحریک میں اور تحریک اقتدار کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے۔
جنوبی ایشیا کی سیاست میں حالیہ برسوں کے واقعات ہمیں یہی سبق دے رہے ہیں۔
بھارت میں میڈیکل داخلہ ٹیسٹ، نوجوانوں کے مستقبل، بے روزگاری اور مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں پر اٹھنے والے سوالات نے پہلے ہی لاکھوں خاندانوں کو بے چین کر رکھا ہے۔ میڈیکل کالج میں داخلہ کسی عام امتحان کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسے خواب کی طرف پہلا دروازہ ہے جس کے پیچھے برسوں کی محنت، والدین کی قربانیاں اور ایک نوجوان کے مستقبل کی پوری امید کھڑی ہوتی ہے۔
جب ایسے نظام پر شفافیت کے سوال اٹھیں تو صرف ایک امتحان مشکوک نہیں ہوتا، پورا اعتماد کٹہرے میں آ جاتا ہے۔
اور جب نوجوان کو یہ محسوس ہونے لگے کہ محنت کے باوجود کامیابی شاید اس کے نصیب میں نہیں، تو پھر مسئلہ صرف تعلیم کا نہیں رہتا۔
یہ مسئلہ عزتِ نفس کا بن جاتا ہے۔
پاکستان ہو یا بھارت، پیشہ ورانہ تعلیم تک پہنچنے کی دوڑ آسان نہیں۔ لاکھوں نوجوان محدود نشستوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے، کوئی انجینئر، کوئی وکیل اور کوئی سرکاری افسر۔ ہر ایک کے پاس ایک خواب ہوتا ہے، مگر ہر خواب کے سامنے وسائل، آبادی، محدود مواقع، بے روزگاری اور نظام کی کمزوریاں کھڑی ہوتی ہیں۔
ایسے ماحول میں اگر کسی نوجوان کو یہ احساس بھی ہو جائے کہ نظام اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا تو پھر خاموشی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
ایک طنز، ایک لفظ اور ایک سیاسی علامت
مئی 2026 میں بھارت میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ جیسے طنزیہ سیاسی اظہار کا سامنے آنا اسی بڑے غصے کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ محض نام نہیں تھا۔
یہ ایک سوال تھا:
اگر نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں، مواقع محدود ہیں اور انہیں اپنے ہی ملک میں غیر ضروری یا بوجھ سمجھا جانے لگے تو وہ جائیں کہاں؟
کسی تحریک کی اصل طاقت اس کے نام میں نہیں ہوتی۔ اصل طاقت اس احساس میں ہوتی ہے جو ہزاروں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے۔
ایک شخص کی بات دوسرے کے دل کی آواز بن جائے تو وہ بات سوشل میڈیا کی پوسٹ نہیں رہتی، سیاسی نعرہ بن جاتی ہے۔
اور پھر نعرے کو کسی بڑے لیڈر کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔
اقتدار کی سب سے بڑی کمزوری: تحقیر
تاریخ بتاتی ہے کہ طاقتور حکومتیں ہمیشہ معاشی بحران سے نہیں گرتیں۔
کبھی کبھی ایک غلط جملہ بھی کافی ہوتا ہے۔
بھارت میں جسٹس سوریا کانت سے منسوب وہ سخت ریمارکس، جن میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے ’’کاکروچ‘‘ جیسی تحقیر آمیز تشبیہ سامنے آئی، اسی لیے شدید ردعمل کا باعث بنے۔ چاہے کسی عدالت کے ریمارکس کا مخصوص قانونی تناظر کچھ بھی ہو، عوامی سطح پر ایسے الفاظ کا اثر الگ ہوتا ہے۔
نوجوان جب پہلے ہی بے روزگاری، مسابقت اور مستقبل کی غیر یقینی سے دوچار ہو تو اسے یہ کہنا کہ وہ معاشرے کے لیے محض ایک ’’پیرا سائٹ‘‘ یا ’’کاکروچ‘‘ ہے، اس کے اندر موجود غصے کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
کیونکہ نوجوان کو صرف نوکری نہیں چاہیے۔
وہ عزت بھی چاہتا ہے۔
وہ یہ یقین بھی چاہتا ہے کہ اس کی محنت کی قدر ہے۔
اور وہ یہ سننا چاہتا ہے کہ ملک کے مستقبل میں اس کی جگہ موجود ہے۔
بنگلہ دیش نے بھی یہی منظر دیکھا
2024 میں بنگلہ دیش میں طلبہ کے کوٹہ مخالف احتجاج نے بھی دنیا کو دکھا دیا کہ نوجوانوں کو معمولی سمجھنے کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے۔
ابتدائی احتجاج سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ نظام کے خلاف تھا، مگر حالات تیزی سے بدل گئے۔ متنازع بیانات، شدید ردعمل، تشدد اور ہلاکتوں نے ایک محدود احتجاج کو ملک گیر سیاسی بحران میں تبدیل کر دیا۔
وزیراعظم حسینہ واجد کے ایک بیان کو بھی مظاہرین نے اپنی توہین کے طور پر لیا۔ بعد میں حکومتی وضاحتیں سامنے آئیں، مگر بعض اوقات وضاحت اس وقت آتی ہے جب جذبات دلیل کی حدود سے بہت آگے نکل چکے ہوتے ہیں۔
پھر سڑکیں بھر گئیں۔
نوجوان آگے آگئے۔
اور ریاستی طاقت کے باوجود احتجاج پھیلتا گیا۔
ناہید اسلام جیسے نوجوان اس تحریک کے نمایاں چہروں میں سامنے آئے۔ ایک طالب علم کا سیاسی احتجاج کی مرکزی علامت بن جانا خود اس بات کی علامت تھا کہ مسئلہ صرف ایک قانون یا ایک کوٹے کا نہیں رہا تھا۔
اب معاملہ اعتماد کا تھا۔
نوجوان کب ’’ہجوم‘‘ نہیں رہتا؟
یہ سوال سب سے اہم ہے۔
ایک سولہ یا سترہ سال کا طالب علم والدین کے لیے اب بھی بچہ ہوتا ہے۔ استاد کے لیے بھی وہ کلاس روم کا ایک معصوم چہرہ ہوتا ہے۔ مگر یہی بچہ چند برس بعد اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے ملک کے بارے میں سنجیدہ سوال اٹھانے والا شہری بن جاتا ہے۔
یہ تبدیلی خاموشی سے آتی ہے۔
گھر والوں کو خبر نہیں ہوتی۔
اساتذہ کو اندازہ نہیں ہوتا۔
حکومتوں کو اکثر اس وقت معلوم ہوتا ہے جب سڑکیں بھر چکی ہوتی ہیں۔
اس لیے نوجوانوں کے غصے کو صرف ’’شرارت‘‘، ’’بغاوت‘‘ یا ’’سوشل میڈیا کا جنون‘‘ سمجھنا خطرناک غلطی ہو سکتی ہے۔
ہر غصے کے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے۔
کبھی وہ روزگار ہے۔
کبھی تعلیم۔
کبھی ناانصافی۔
کبھی کرپشن۔
اور کبھی صرف یہ احساس کہ ہمیں کوئی سن نہیں رہا۔
اقتدار کا سب سے مشکل امتحان
طاقت حاصل کرنا شاید مشکل ہو، مگر طاقت کو سمجھداری سے استعمال کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔
ایک جج کے الفاظ عدالت سے باہر نکل کر عوامی بحث کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ایک وزیر کا جملہ ہزاروں نوجوانوں کو مشتعل کر سکتا ہے۔
ایک حکومتی فیصلہ پورے تعلیمی نظام پر اعتماد ختم کر سکتا ہے۔
اور ایک سیاسی طنز چند ہفتوں میں ایسی علامت بن سکتا ہے جسے اقتدار نظرانداز نہ کر سکے۔
اسی لیے حکمرانوں، سیاست دانوں، ججوں، اساتذہ اور والدین سب کے لیے ایک بنیادی اصول ہونا چاہیے:
نوجوان کو کمزور سمجھ کر مخاطب نہ کریں۔
کیونکہ نوجوان کمزور نہیں ہوتا۔
اس کے پاس شاید اقتدار نہ ہو، دولت نہ ہو، عہدہ نہ ہو، مگر اس کے پاس وقت، توانائی، خواب اور سب سے بڑھ کر مستقبل ہوتا ہے۔
اور جب مستقبل رکھنے والی نسل اپنے حال سے مایوس ہو جائے تو تاریخ کا رخ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
مودی کے لیے اصل سوال
بنگلہ دیش کا تجربہ بھارت سمیت پورے خطے کے لیے ایک انتباہ تھا۔
بھارتی حکومت نے اگر کسی مرحلے پر اپنے ایک وزیر کو سیاسی دباؤ کا بوجھ اٹھانے دیا، تو اسے محض ایک فرد کی قربانی سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بنیادی مسئلہ حل ہوا؟
کیا نوجوانوں کا اعتماد واپس آیا؟
کیا امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات ختم ہوئے؟
کیا روزگار کے مواقع بڑھ گئے؟
اور کیا اقتدار نے یہ سمجھ لیا کہ آج کا نوجوان صرف ووٹر نہیں، ایک ایسا شہری بھی ہے جو سوال کرنا جانتا ہے؟
اگر ان سوالوں کے جواب ’’نہیں‘‘ ہیں تو پھر ایک وزیر کی قربانی صرف وقتی مرہم ہے۔
زخم کہیں گہرا ہے۔
اور سیاست میں سب سے خطرناک زخم وہ ہوتا ہے جسے حکمران سطحی سمجھ کر نظرانداز کر دیں۔
جنوبی ایشیا کے نوجوان اب صرف ڈگری نہیں چاہتے۔
وہ انصاف چاہتے ہیں۔
وہ مواقع چاہتے ہیں۔
وہ احترام چاہتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے خوابوں کا مذاق نہ بنایا جائے۔
کیونکہ جب خوابوں کو بار بار کچلا جائے تو خواب دیکھنے والے ایک دن سوال ضرور کرتے ہیں۔
اور تاریخ کا پہیہ اکثر وہیں سے تیزی سے گھومتا ہے جہاں حکمران سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ان کے قابو میں ہے۔









