مریم نواز کا سُتھرا پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سُتھرا پنجاب محض ایک سرکاری منصوبہ نہیں، یہ ایک ایسا خواب ہے جو شاید ان کے دل کے سب سے قریب ہے۔ ایک عورت جس طرح اپنے گھر کو صاف ستھرا اور خوبصورت دیکھنا چاہتی ہے، اسی طرح مریم نواز بھی پورے پنجاب کو اپنا گھر سمجھ کر اسے صاف دیکھنا چاہتی ہیں۔
اسی جذبے کے تحت انہوں نے سُتھرا پنجاب کے لیے بے پناہ وسائل فراہم کیے، ٹیم کو فری ہینڈ دیا اور واضح پیغام دیا کہ پنجاب کی صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
سُتھرا پنجاب نے کئی علاقوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس منصوبے کا چرچا پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی ہوا۔ لیکن جہاں کوئی بڑا منصوبہ کامیابی کی طرف بڑھتا ہے، وہاں بعض کالی بھیڑیں اپنے مفادات کے لیے اس میں داخل ہونے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔
فیصل آباد میں سُتھرا پنجاب کا معاملہ بھی کچھ ایسے ہی سوالات اٹھا رہا ہے۔
میرے پاس موجود معلومات اور سامنے آنے والے دعووں کے مطابق فیصل آباد میں مبینہ طور پر ایک ایسا نیٹ ورک موجود تھا جو سُتھرا پنجاب کے مالی معاملات اور سرکاری وسائل سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ماہانہ تقریباً سات سے آٹھ کروڑ روپے تک کا مبینہ بھتہ/پروٹیکشن منی مختلف افراد اور حلقوں میں تقسیم ہوتا رہا۔
ان دعووں کے مطابق ایک صاحب کو ایک کروڑ روپے ماہانہ مبینہ طور پر پروٹیکشن منی کے نام پر دی جاتی تھی، دوسرے صاحب کو دو کروڑ روپے ماہانہ جبکہ ایک اور شخص کو پچاس لاکھ روپے ماہانہ دیے جانے کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔
یہیں بات ختم نہیں ہوتی۔
ان دعووں کے مطابق اس مبینہ نظام میں میڈیا سے وابستہ بعض افراد بھی شامل تھے۔ کسی کو مبینہ طور پر پانچ لاکھ روپے ماہانہ، کسی کو دو لاکھ، کسی کو آٹھ لاکھ اور بعض کو ایک ایک لاکھ روپے ماہانہ دیے جانے کے دعوے کیے جاتے رہے۔
اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف کرپشن نہیں بلکہ ایک پورے پروٹیکشن منی نیٹ ورک کا معاملہ بنتا ہے۔
اور اگر یہ دعوے غلط ہیں تو جن لوگوں پر یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہیں بھی شفاف تحقیقات کے ذریعے اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
لیکن اس پوری کہانی میں ایک کردار ایسا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عابد حسین بھٹی۔
ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ فیصل آباد عابد حسین بھٹی نے مبینہ طور پر اس پورے نظام کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے واضح پالیسی اپنائی:
“نہ کرپشن کروں گا، نہ کسی کو کرنے دوں گا۔”
یہ جملہ بولنا آسان ہے، مگر اس پر قائم رہنا بہت مشکل ہے۔
عابد حسین بھٹی نے مبینہ مفاداتی گروہوں سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا۔ انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، مبینہ دھمکیاں دی گئیں، رشوت کی پیشکشوں کے دعوے سامنے آئے، لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹے۔
وہ نہ جھکے، نہ بکے، نہ پیچھے ہٹے۔
ایک طرف مبینہ طور پر پروٹیکشن منی کا نظام چلنے کے دعوے کیے جا رہے تھے، دوسری طرف ایک افسر نے کہا کہ سرکاری ادارے کو کسی فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں بننے دیا جائے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عابد حسین بھٹی کو سلام بنتا ہے۔
انہوں نے اپنی سہولت اور ذاتی مفاد سے زیادہ ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی۔
چیف سیکریٹری پنجاب سے لے کر وزیر بلدیات اور وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے بھی ان کے کام کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔
لیکن طاقتور مفادات سے ٹکر لینے کی قیمت بھی ہوتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق عابد بھٹی کے خلاف کردار کشی کی کوششیں کی گئیں، ان کے خلاف دباؤ ڈالا گیا اور ایسی خبریں سامنے لانے کی کوششیں کی گئیں جن کا مقصد ان کی ساکھ کو متاثر کرنا تھا۔
مگر وہ کھڑے رہے۔
یہی وہ افسر ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ اسے قومی سطح پر حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔
قومی ایوارڈ بعد کی بات ہے، پہلے ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بہادر افسر کے ساتھ کھڑی ہے۔
اور اب جب مبینہ طور پر وہ عناصر دوبارہ سرگرم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے خلاف کارروائی ہوئی تھی، تو عابد حسین بھٹی کو پہلے سے زیادہ ریاستی تحفظ کی ضرورت ہے۔
مریم نواز صاحبہ!
آپ نے سُتھرا پنجاب کو اپنے دل کے قریب رکھا ہے۔
آپ نے اس منصوبے کے لیے وسائل فراہم کیے۔
آپ نے ٹیم کو فری ہینڈ دیا۔
آپ نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا اعلان کیا۔
اب فیصل آباد آپ کے سامنے ایک ایسا افسر لے کر کھڑا ہے جس نے عملی میدان میں اس پالیسی کو نافذ کرنے کی کوشش کی۔
اس افسر کو اکیلا نہ چھوڑیں۔
اگر کسی نے واقعی سرکاری خزانے سے کھیلنے کی کوشش کی ہے تو تحقیقات ہوں۔
اگر کسی نے پروٹیکشن منی لی ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔
اگر کسی نے کسی افسر کو دھمکایا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہو۔
اور اگر کسی میڈیا شخص نے پیسے لے کر کسی کے خلاف کردار کشی کی ہے تو اس معاملے کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
لیکن ساتھ ہی ایک اصول بھی واضح ہونا چاہیے:
الزام کسی کو مجرم نہیں بناتا، ثبوت ہی جرم ثابت کرتا ہے۔
اسی لیے ضرورت ہے کہ فیصل آباد کے سُتھرا پنجاب منصوبے کے تمام مالی معاملات، کنٹریکٹس، ادائیگیوں اور مبینہ پروٹیکشن منی کے دعووں کی مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں۔
تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
آج عابد حسین بھٹی شاید سوچتے ہوں:
“مجھے کیا ضرورت تھی کہ میں سرکاری خزانے کے اربوں روپے بچانے کی کوشش کرتا؟ مجھے کیا ضرورت تھی کہ میں طاقتور لوگوں سے دشمنی مول لیتا؟”
یہ سوال صرف عابد بھٹی کا نہیں ہونا چاہیے۔
یہ سوال ہر اس افسر کا ہے جو مستقبل میں کرپشن کے خلاف کھڑا ہوگا۔
اگر ایک افسر کرپشن کے خلاف کھڑا ہو اور پھر اسے ہی دباؤ، دھمکیوں اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑے تو کل کوئی دوسرا افسر مافیا کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا۔
لیکن اگر حکومت ایک عابد حسین بھٹی کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو پنجاب کے ہزاروں افسران کو پیغام جائے گا:
ایمانداری کرو، ریاست تمہارے ساتھ ہے۔
سُتھرا پنجاب صرف گلیوں سے کچرا اٹھانے کا نام نہیں۔
سُتھرا پنجاب کا اصل مقصد نظام کو بھی صاف کرنا ہے۔
اور نظام اس وقت صاف ہوگا جب عوام کے پیسے کی ایک ایک پائی کا حساب ہوگا، پروٹیکشن منی کے الزامات کی تحقیقات ہوں گی، کرپشن کرنے والے خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہوں قانون کے سامنے جواب دہ ہوں گے، اور عابد حسین بھٹی جیسے افسر کو ریاستی تحفظ حاصل ہوگا۔
مریم نواز صاحبہ!
اگر عابد حسین بھٹی نے واقعی آپ کے سُتھرا پنجاب کے لیے طاقتور مفاداتی گروہوں سے ٹکر لی ہے تو انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔
کیونکہ ایک بہادر افسر کو بچانا صرف ایک افسر کو بچانا نہیں، بلکہ ان ہزاروں افسران کے حوصلے کو بچانا ہے جو ریاست کے لیے ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں۔
مریم نواز کا سُتھرا پنجاب صرف سڑکوں کی صفائی نہیں؛ یہ نظام کی صفائی کا بھی امتحان ہے۔
اور فیصل آباد میں عابد حسین بھٹی اسی امتحان میں کھڑے نظر آتے ہیں۔









