نہ بڑھاپے کا خوف، نہ کمزوری کا احساس! 90 سالہ باڈی بلڈر کا ناقابلِ یقین کارنامہ

0
7
نہ بڑھاپے کا خوف، نہ کمزوری کا احساس! 90 سالہ باڈی بلڈر کا ناقابلِ یقین کارنامہ

**ٹوکیو: (ویب ڈیسک)** جاپان کے 90 سالہ باڈی بلڈر کوشی سوکے کانازاوا نے بڑھتی عمر کے باوجود اپنی غیر معمولی جسمانی فٹنس اور کھیلوں سے لگاؤ کے ذریعے دنیا کو حیران کردیا۔ انہوں نے 90 برس کی عمر میں جاپان کی ماسٹرز باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں 85 سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کی کیٹیگری میں کامیابی حاصل کرکے ثابت کردیا کہ عمر کا بڑھنا جسمانی سرگرمیوں کے راستے میں لازمی رکاوٹ نہیں۔

کوشی سوکے کانازاوا کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کے بیشتر حصے کو جسمانی فٹنس کے لیے وقف رکھا۔ وہ آج بھی جم جاتے ہیں، ورزش کرتے ہیں اور مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کی طویل کامیابی کے پیچھے مسلسل محنت، نظم و ضبط، مناسب خوراک اور عمر کے تقاضوں کے مطابق ورزش میں تبدیلی کو اہم عوامل قرار دیا جاتا ہے۔

کانازاوا 1936 میں جاپان کے صوبے شیمانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ان کی دلچسپی تیراکی میں تھی اور وہ اولمپکس میں جاپان کی نمائندگی کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ اسکول کے زمانے میں وہ 1500 میٹر فری اسٹائل تیراکی میں مہارت رکھتے تھے، لیکن پٹھوں سے متعلق ایک مسئلے کے باعث انہیں تیراکی کا ارادہ ترک کرنا پڑا۔

انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے باڈی بلڈنگ کو اپنی زندگی کا نیا مقصد بنایا۔ ابتدا میں ان کے والد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے، تاہم والدہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد کانازاوا نے اپنی تربیت پر بھرپور توجہ دی اور روزانہ کئی گھنٹے ورزش کرنے لگے۔

ان کی محنت رنگ لائی اور 24 سال کی عمر میں انہوں نے مسٹر جاپان کا اعزاز اپنے نام کیا۔ تین سال بعد وہ دوبارہ یہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہے۔ 1967 میں انہوں نے کینیڈا کے شہر مونٹریال میں مسٹر یونیورس کے مقابلے میں شرکت کی اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں آرنلڈ شوارزنیگر اور سرجیو اولیوا جیسے معروف باڈی بلڈرز بھی شریک تھے۔

بعد کے برسوں میں بھی انہوں نے باڈی بلڈنگ سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ 80 سال کی عمر عبور کرنے کے بعد وہ چھ مرتبہ ورلڈ ماسٹرز چیمپئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ 90 سال کی عمر میں جاپانی قومی چیمپئن شپ میں کامیابی ان کے شاندار کھیلوں کے سفر کا ایک اور اہم سنگ میل ہے۔

ان کی فٹنس میں غذا کا کردار بھی نمایاں ہے۔ کانازاوا سادہ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی زندگی میں تمباکو نوشی اور شراب سے دور رہے ہیں۔ انہوں نے کئی دہائیاں قبل گوشت اور مچھلی کھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ان کی روزمرہ خوراک میں براؤن رائس، فروکاکے، نیٹو اور مسو سوپ شامل ہیں۔ وہ سوپ میں دو کچے انڈے بھی استعمال کرتے ہیں۔ نیٹو خمیر شدہ سویابین سے تیار ہونے والی جاپانی روایتی غذا ہے، جس میں نباتاتی پروٹین پائی جاتی ہے۔

کانازاوا ماضی میں روزانہ پروٹین کے چھ شیک استعمال کرتے تھے، تاہم اب انہوں نے اپنی عمر اور جسمانی ضروریات کے پیش نظر یہ تعداد کم کرکے تین کردی ہے۔

ورزش کے معاملے میں بھی انہوں نے وقت کے ساتھ تبدیلیاں کی ہیں۔ جوانی میں بھاری وزن اٹھانے والے کانازاوا اب اسکواٹس اور بینچ پریس جیسی سخت ورزشوں سے گریز کرتے ہیں۔ وہ جم کی مشینوں، پل اپس اور ٹانگوں کی ہلکی پھلکی ورزشوں کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ جسم پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

طبی ماہرین کے مطابق بڑھتی عمر کے ساتھ پٹھوں کی طاقت اور مقدار میں کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے، جسے سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ تاہم باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن خوراک اور مزاحمتی ورزشوں کے ذریعے اس عمل کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو ہفتے میں 150 سے 300 منٹ تک درمیانی شدت کی جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہفتے میں کم از کم دو دن پٹھوں کو مضبوط بنانے اور توازن بہتر کرنے والی ورزشیں بھی ضروری ہیں۔

تاہم عمر رسیدہ افراد کو سخت ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنی جسمانی صلاحیت اور صحت کا جائزہ لینا چاہیے۔ خصوصاً دل، جوڑوں یا دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

کوشی سوکے کانازاوا کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ فٹنس کا تعلق صرف جوانی سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور مناسب طرز زندگی سے بھی ہے۔ ان کا سفر یہ پیغام دیتا ہے کہ عمر کے ساتھ سرگرمیاں ختم کرنے کے بجائے انہیں جسمانی ضروریات کے مطابق جاری رکھنا زیادہ اہم ہے۔

Leave a reply