لاہور پولیس: بہتر کوآرڈنیشن، جدید ٹیکنالوجی اور بدلتا ہوا تاثر

لاہور پولیس: بہتر کوآرڈنیشن، جدید ٹیکنالوجی اور بدلتا ہوا تاثر

تحریر:یونس باٹھ

لاہور پولیس کے حوالے سے ماضی میں مختلف نوعیت کی شکایات اور تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ کبھی افسران کے درمیان مبینہ اختلافات، کبھی آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے مابین کوآرڈینیشن کا فقدان اور کبھی پولیس و میڈیا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی خبروں اور تبصروں کا موضوع بنتی رہی۔ تاہم حالیہ دنوں میں لاہور پولیس کی مجموعی کارکردگی، اعلیٰ افسران کے باہمی رابطوں اور میڈیا کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات نے ایک مثبت تبدیلی کا احساس پیدا کیا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کس طرح نتائج کو بہتر بنا سکتی ہے۔ لاہور پریس کلب میں ہونے والا ”میٹ دی پریس“ پروگرام اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت تھا، جس میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کی ایک ساتھ موجودگی نے ان تمام قیاس آرائیوں کو کمزور کیا جو اعلیٰ پولیس افسران کے درمیان اختلافات اور گروپنگ کے حوالے سے گردش کرتی رہی تھیں۔ ایک ہی پلیٹ فارم پر تینوں افسران کی موجودگی اس سے قبل آئی جی پولیس راؤ عبدا لکریم کی بھی لاہور پولیس کے افسران کے ہمراہ پریس کلب آمد باہمی ہم آہنگی اور میڈیا کے سوالات کے جوابات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پولیس کی قیادت ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اس موقع پر سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے واضح کیا کہ پولیس اور صحافیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جرائم کی نشاندہی اور ان کی رپورٹنگ صحافیوں کی ذمہ داری ہے، جبکہ جرائم کی روک تھام اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کا فرض ہے۔ ان دونوں شعبوں کے درمیان اعتماد اور تعاون ہو تو معاشرے میں مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بلاشبہ ان کا یہ مؤقف قابل توجہ ہے کہ تنقید اور پراپیگنڈے میں فرق برقرار رہنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس تنقیدی صحافت کو اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھے۔ لاہور میں جرائم کی شرح میں کمی کے حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اعدادوشمار بھی قابل ذکر ہیں۔ سی سی پی او کے مطابق 2026ء میں گزشتہ سال کے مقابلے میں سنگین جرائم میں مجموعی طور پر 47 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈکیتی، راہزنی، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری سمیت مختلف جرائم میں کمی کے اعدادوشمار پیش کیے گئے۔ گزشتہ تین برسوں میں تقریباً دس لاکھ مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں، اشتہاری ملزمان کی گرفتاریوں اور ایک ارب 51 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کا ذکر بھی کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں، تاہم ان کی مسلسل آزادانہ جانچ اور شفافیت بھی ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔ اس بہتری میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ایم ڈی احسن یونس کا کردار بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید کیمروں، نگرانی کے نظام، مصنوعی ذہانت اور فوری رسپانس کی بدولت جرائم کی روک تھام اور ملزمان کی شناخت میں مدد مل رہی ہے۔ کسی واردات یا ناخوشگوار واقعہ پر وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد متعلقہ اداروں کی فوری کارروائی اور ملزمان تک پہنچنے کی کوششیں بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مؤثر ہو رہی ہیں۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی شکایات پر کارروائی، اغوا کے مقدمات کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری میں بھی جدید ذرائع اہم معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کے مطابق خواتین اور بچوں سے متعلق درج مقدمات میں 99 فیصد ٹریسنگ کی شرح حاصل کی گئی ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم ایسے حساس مقدمات میں متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور تحفظ ہر حال میں اولین ترجیح رہنی چاہیے۔ سیف سٹی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف جرائم کی روک تھام تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹریفک مینجمنٹ میں بھی اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالاننگ میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد شہریوں کو قوانین کا پابند بنانا اور سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔ ٹریفک قوانین کا یکساں نفاذ ہی حادثات میں کمی اور شہریوں کے محفوظ سفر کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اس تمام مثبت پیش رفت کے ساتھ ایک اہم پہلو اب بھی توجہ طلب ہے۔ پولیس اور میڈیا کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے خصوصی کوششیں کیں۔ آئی جی پنجاب تک معاملہ پہنچانے، پولیس کی اعلیٰ قیادت کو پریس کلب مدعو کرنے اور براہ راست مکالمے کا ماحول پیدا کرنے میں ان کا کردار قابل تحسین ہے۔ اس ملاقات سے ایک ایسے بحران کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی جس کا نقصان دونوں اداروں کے باہمی اعتماد کو پہنچ رہا تھا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض پولیس اہلکاروں اور افسران کا چند میڈیا نمائندوں، خصوصاً رپورٹرز کے ساتھ رویہ اب بھی جارحانہ اور غیر مناسب ہے۔ سی سی پی او، ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ صحافی اگر کسی واقعے پر سوال کرتا ہے یا خبر کے لیے مؤقف لینا چاہتا ہے تو اسے عزت اور تحمل کے ساتھ جواب دینا پولیس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ اسی طرح صحافیوں کو بھی خبر کی تصدیق اور حقائق کی جانچ کو مقدم رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور پولیس میں پیدا ہونے والی بہتر کوآرڈینیشن صرف اعلیٰ افسران کی میٹنگز اور پریس کانفرنسوں تک محدود نہ رہے بلکہ تھانوں، تفتیشی شعبوں اور فیلڈ میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہوں۔ ایف آئی آر کا بروقت اندراج، شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ، میرٹ پر تفتیش اور پولیس اہلکاروں کا عوام و صحافیوں کے ساتھ شائستہ رویہ اس تبدیلی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔بلاشبہ بلال صدیق کمیانہ، فیصل کامران اور ذیشان رضا کی مشترکہ کاوشوں، بہتر رابطہ کاری اور میڈیا کے ساتھ براہ راست مکالمے کا آغاز ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اعتماد کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔ پولیس اور میڈیا ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک محفوظ، پرامن اور باخبر معاشرے کے دو اہم ستون ہیں۔ دونوں کے درمیان احترام، اعتماد اور تعاون برقرار رہے تو لاہور کو مزید محفوظ بنانے کا خواب یقیناً زیادہ مؤثر انداز میں شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

Leave a reply