صحافی کون؟

ایک وقت تھا جب کسی واقعے کی خبر لوگوں تک پہنچنے میں گھنٹے لگ جاتے تھے۔ اخبارات کے نمائندے جائے وقوعہ پر پہنچتے، عینی شاہدین سے بات کرتے، متعلقہ حکام سے مؤقف لیتے اور پھر خبر ادارے کے دفتر تک پہنچاتے۔ خبر کی اشاعت سے پہلے نیوز ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر اس کا جائزہ لیتے، زبان درست کرتے، حقائق کی جانچ کرتے اور غیر ضروری تفصیلات نکال دیتے۔ اس پورے عمل کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں، بلکہ درست اور قابلِ اعتماد معلومات عوام تک پہنچانا تھا۔
آج صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے خبر کی دنیا میں ایسا انقلاب برپا کیا ہے جس کا چند دہائیوں پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ اب کسی حادثے، احتجاج، سرکاری فیصلے یا سیاسی بیان کی اطلاع چند سیکنڈ میں دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے۔ خبر دینے کے لیے نہ کسی اخبار کے دفتر جانے کی ضرورت ہے، نہ کسی ٹی وی چینل سے وابستگی لازمی ہے۔ ایک عام شہری بھی تصویر، ویڈیو یا تحریر کے ذریعے ہزاروں، بلکہ لاکھوں لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔
یہ تبدیلی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوا ہے: کیا معلومات شیئر کرنے والا ہر شخص صحافی کہلانے کا حق رکھتا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے صحافت کے ماضی اور حال کو سمجھنا ضروری ہے۔
ماضی میں صحافت محض ایک پیشہ نہیں، ایک ذمہ داری بھی سمجھی جاتی تھی۔ اخبارات کے محدود وسائل اور ذرائع ابلاغ کی پابندیوں کے باوجود خبر کی تصدیق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ کسی شخص کے خلاف الزام شائع کرنے سے پہلے اس کا مؤقف لینے، سرکاری اعداد و شمار کی جانچ کرنے اور مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر ادارہ ان اصولوں پر مکمل عمل کرتا تھا، لیکن صحافت کے پیشہ ورانہ معیار میں تصدیق، توازن اور جواب دہی کو بنیادی مقام حاصل تھا۔
نیوز روم میں سب ایڈیٹر کا کردار بھی محض الفاظ درست کرنے تک محدود نہیں تھا۔ وہ خبر کی ترتیب، زبان، عنوان اور مفہوم پر نظررکھتا تھا۔ اسے معلوم ہوتا تھا کہ ایک غلط لفظ خبر کا مطلب بدل سکتا ہے، غیر محتاط سرخی کسی کی ساکھ متاثر کرسکتی ہے اور غیر مصدقہ اطلاع کی اشاعت بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے خبر کی اشاعت ایک باقاعدہ ادارتی عمل سے گزرتی تھی۔
اُس دور میں بھی صحافت غلطیوں سے پاک نہیں تھی۔ اخبارات اور نشریاتی ادارے سیاسی دباؤ، مالکان کے مفادات اور تجارتی تقاضوں سے متاثر ہوتے تھے۔ تاہم خبر کی تیاری اور اشاعت کا ایک واضح پیشہ ورانہ ڈھانچا موجود تھا، جس میں غلطی کی نشان دہی اور اصلاح کی گنجائش ہوتی تھی۔
آج سوشل میڈیا نے اس ڈھانچے کو چیلنج کیا ہے۔ اب خبر کی اشاعت کے لیے ادارتی منظوری ضروری نہیں رہی۔ کوئی بھی شخص اپنی پوسٹ کو خبر کا عنوان دے سکتا ہے، کسی ویڈیو کے ساتھ سنسنی خیز دعویٰ لکھ سکتا ہے یا کسی پر الزام عائد کر کے اسے ہزاروں افراد تک پہنچا سکتا ہے۔ مسئلہ شہریوں کو اظہارِ رائے کا موقع ملنا نہیں، بلکہ اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس کمزور پڑ جانا ہے۔
اس صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے، جو ہمارے ہاں خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ المیہ صرف یہ نہیں کہ ہر سوشل میڈیا صارف خود کو صحافی سمجھنے لگا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ صحافت کے نام پر کام کرنے والوں کی پیشہ ورانہ قابلیت جانچنے کے لیے کوئی یکساں اور مؤثر معیار عملاً دکھائی نہیں دیتا۔ بہت سے لوگ کسی نیوز پلیٹ فارم، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پیج سے وابستگی اختیار کرتے ہی اپنے نام کے ساتھ صحافی، جرنلسٹ یا سینئر جرنلسٹ لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ بعض کے لیے یہ تعارف سے زیادہ اپنی حیثیت منوانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر صحافی ہونے کا معیار کیا ہے؟ کیا محض کسی ادارے کا کارڈ حاصل کرلینا کافی ہے؟ کیا سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنے سے کوئی شخص صحافی بن جاتا ہے؟ کیا اپنے نام کے ساتھ ’’سینئر جرنلسٹ‘‘ لکھ دینے سے تجربہ، پیشہ ورانہ مہارت اور صحافتی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے؟
یقیناً صحافت میں داخلے کے لیے کسی ایک مخصوص ڈگری کو ہر حال میں لازمی قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ بہت سے صحافیوں نے عملی تجربے، مسلسل مطالعے، تربیت اور نیوز روم میں برسوں کی محنت سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اسی طرح صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والا ہر شخص لازماً ایک اچھا صحافی نہیں بن جاتا۔ اصل اہمیت علم، خبر کی سمجھ، تحقیق، زبان پر گرفت، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور عملی صلاحیت کی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ قابلیت اور تجربے کے سوال کو بالکل نظرانداز کردیا جائے۔
میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافتی عملے کی تقرری میں واضح معیار اپنائیں۔ خبر نویسی، رپورٹنگ، تدوین، صحافتی اخلاقیات اور ڈیجیٹل تصدیق کی صلاحیت کو اہمیت دی جائے۔ نئے آنے والوں کے لیے تربیت اور تجربہ کار صحافیوں کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع موجود ہوں۔ محض تعلقات، شناختی کارڈ یا سوشل میڈیا پر مقبولیت کو اہلیت کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔
ہمارے عہد کے کئی جید صحافیوں کی وضع داری بھی اس ضمن میں یاد رکھنے کے قابل ہے۔ بہت سے معتبر صحافی اپنے نام کے ساتھ صحافی، جرنلسٹ یا سینئر جرنلسٹ لکھنے کے بجائے اپنے کام کو اپنی شناخت بناتے تھے۔ ان کی پہچان ان کی خبروں، تجزیوں، اداریوں، زبان پر گرفت اور صحافتی دیانت سے ہوتی تھی۔ وہ کسی لقب کے محتاج نہیں تھے، کیونکہ ان کی پیشہ ورانہ ساکھ ان کے کام سے قائم ہوچکی تھی۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اپنے نام کے ساتھ صحافی لکھنا بذاتِ خود کوئی غلط بات نہیں۔ تعارف اور پیشہ ورانہ شناخت ہر شخص کا حق ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لقب کو قابلیت کا ثبوت اور خود ساختہ سینئر ہونے کو تجربے کا متبادل سمجھ لیا جائے۔ صحافت میں اصل مقام کسی لفظ کے استعمال سے نہیں، مسلسل محنت، ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور عوام کے اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر کسی واقعے کی ویڈیو شیئر کرنا اور اس واقعے کی صحافتی رپورٹنگ کرنا دو مختلف کام ہیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والا منظر حقیقی ہوسکتا ہے، لیکن اس کا وقت، مقام اور پس منظر غلط بیان کیا جاسکتا ہے۔ کئی مرتبہ پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ دیا جاتا ہے، کسی دوسرے ملک کی تصاویر کو پاکستان کا واقعہ قرار دیا جاتا ہے اور نامکمل معلومات کی بنیاد پر کسی شخص یا ادارے کے خلاف رائے قائم کرلی جاتی ہے۔ جب تک ان پہلوؤں کی تصدیق نہ ہو، محض ویڈیو کی موجودگی کسی دعوے کو مکمل خبر نہیں بناتی۔
شہری صحافت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ عام شہریوں کی تصاویر، ویڈیوز اور عینی شاہدین کی معلومات نے کئی مواقع پر ایسے مسائل کو اجاگر کیا جنہیں روایتی ذرائع ابلاغ مناسب توجہ نہیں دے رہے تھے۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی، شہری مسائل، ماحولیاتی آلودگی، عوامی سہولتوں کی کمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شہریوں کی فراہم کردہ معلومات اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
لیکن شہری صحافت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دعویٰ درست اور ہر پوسٹ صحافتی اصولوں کے مطابق ہو۔ ایک ذمہ دار شہری خبر کی تصدیق کرتا ہے، اپنے علم اور اندازے میں فرق رکھتا ہے، متعلقہ فریق کا مؤقف لینے کی کوشش کرتا ہے اور غلطی سامنے آنے پر اپنی اطلاع درست کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص بغیر تحقیق کسی الزام کو حقیقت بنا کر پیش کرے، وہ محض اس عمل سے صحافی نہیں بن جاتا۔
موجودہ دور میں سنسنی خیزی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سوشل میڈیا کے بعض صارفین توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے عنوانات استعمال کرتے ہیں جو خوف، غصے یا تجسس کو ابھارتے ہیں۔ خبر کی اہمیت کے بجائے اس کی مقبولیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کسی حادثے کی تفصیلات کی تصدیق سے پہلے ہی ہلاکتوں کی تعداد بتادی جاتی ہے، کسی گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے اور کسی شخص کے خلاف الزام کو حتمی فیصلہ بنا کر پیش کردیا جاتا ہے۔
اس صورت حال میں صحافت اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق سمجھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ صحافت کا کام کسی فرد، جماعت یا ادارے کے حق میں فضا بنانا نہیں، بلکہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر صورت حال کو واضح کرنا ہے۔ صحافی کو اپنی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہوکر سوال اٹھانے، متعلقہ فریقین کا مؤقف لینے اور ثبوت کے مطابق خبر پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ غیر جانب داری کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دعوے کو یکساں اہمیت دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ خبر کا فیصلہ ذاتی پسند کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہو۔
روایتی ذرائع ابلاغ بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتے۔ بعض اوقات ٹی وی چینلز اور اخبارات سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کو خبر بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ اگر کوئی اطلاع سوشل میڈیا پر مقبول ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست بھی ہو۔ پیشہ ورانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ خبر کی مقبولیت کے بجائے اس کی صداقت کو اہمیت دی جائے۔ ادارتی جانچ کا مقصد ہی غلط اطلاع کو آگے پھیلنے سے روکنا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا ادارے بھرتیوں اور تربیت کے لیے واضح پیشہ ورانہ معیار اپنائیں، صحافتی تنظیمیں اخلاقی اصولوں پر عمل درآمد کی حوصلہ افزائی کریں اور صحافی ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں بہتر بنائیں۔ سوشل میڈیا صارفین کو بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق کرنی چاہیے۔ عوام کو خبر اور رائے، الزام اور ثبوت، جبکہ وائرل ہونے اور درست ہونے کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔
بلاشبہ موبائل فون نے ہر شہری کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا اختیار ضرور دیا ہے، لیکن اس اختیار کے ساتھ صحافتی ذمہ داری خودبخود پیدا نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح صحافی کا لقب اختیار کرلینے سے کوئی شخص پیشہ ورانہ مہارت حاصل نہیں کرلیتا۔ صحافت محض خبر شائع کرنے، ویڈیو اپ لوڈ کرنے یا اپنے نام کے ساتھ کوئی اعزازی لفظ لگانے کا نام نہیں؛ یہ حقائق تک پہنچنے، سوال اٹھانے، غلطی کی اصلاح کرنے اور عوام کے اعتماد کا احترام کرنے کا عمل ہے
ماجد علی کا یہ بلاگ آج اُردو پر26 اکتوبر 2026 کو شائع ہوا ۔









