سب سے پہلے پاکستان

سب سے پہلے پاکستان

تحریر:ذوالفقار احمد راحت

پاکستان کی سیاست میں بعض فیصلے اچانک دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے برسوں کے اختلافات، سیاسی غلطیاں، ضد، بداعتمادی اور طاقت کے مراکز کے ساتھ مسلسل کشمکش کی ایک طویل داستان موجود ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے نے ایک بار پھر ملک میں جمہوریت، صوبائی خودمختاری، قومی سلامتی اور سیاسی قیادت کی ذمہ داریوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حالات یہاں تک پہنچے کیسے، اور اس بحران سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟

یہاں ایک پنجابی شعر یاد آتا ہے:

کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن،
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی!

اس شعر میں ہمارے سیاسی حالات کی پوری کہانی سمٹ آتی ہے۔ کبھی حالات بنانے والوں کی غلطیاں ذمہ دار ہوتی ہیں اور کبھی انسان اپنے فیصلوں سے خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر لیتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاست میں بھی دونوں پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

پی ٹی آئی کی سیاسی غلطیوں میں ایک اہم غلطی یہ رہی ہے کہ اس نے اختلافِ رائے کو اکثر محاذ آرائی میں تبدیل ہونے دیا۔ ایک سیاسی جماعت کا حکومت سے اختلاف کرنا، اپنے قائد کے لیے انصاف مانگنا اور اداروں کی پالیسیوں پر تنقید کرنا اس کا جمہوری حق ہے، لیکن جب ہر اختلاف مستقل جنگ کی شکل اختیار کر لے تو مذاکرات کے راستے تنگ ہونے لگتے ہیں۔ سیاست میں جذبات کارکنوں کو متحرک کر سکتے ہیں، مگر ریاستیں صرف جذبات سے نہیں چلتیں۔ انہیں تدبر، حکمت، مذاکرات اور قابلِ عمل فیصلوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے ملک کے سیاسی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ اداروں کے کردار پر سوال اٹھانا جمہوری معاشرے میں ممنوع نہیں، لیکن سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مطالبات کو آئینی اور جمہوری حدود میں رکھے۔ دوسری طرف اداروں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں آئین، قانون اور شہری آزادیوں کا احترام کریں۔ کسی ایک فریق کی غلطی دوسرے فریق کے ہر اقدام کو درست ثابت نہیں کرتی۔

پی ٹی آئی کی ایک اور کمزوری یہ رہی کہ وفاق میں اقتدار سے محرومی کے بعد اس کی سیاسی حکمتِ عملی میں مفاہمت کے مقابلے میں تصادم کا پہلو زیادہ نمایاں رہا۔ احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے، مگر احتجاج کا مقصد اگر سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بھی بند کرنا بن جائے تو نقصان بالآخر سیاست اور عوام کا ہوتا ہے۔ مسلسل محاذ آرائی سے نہ صرف حکومتی معاملات متاثر ہوتے ہیں بلکہ عام شہری، کاروباری طبقہ، طلبہ اور روزگار کے لیے نکلنے والے لوگ بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مخالفت بھی پی ٹی آئی کا سیاسی حق ہے، لیکن سیاست میں مخالفت اور سیاسی تنہائی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ اگر ہر سیاسی جماعت کو مستقل دشمن سمجھ لیا جائے تو پارلیمان میں تعاون، آئینی معاملات پر مشترکہ مؤقف اور بحرانوں کے حل کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو اپنی حکمتِ عملی پر غور کرنا چاہیے کہ آیا اس نے سیاسی اتحاد اور مذاکرات کے امکانات کو مؤثر طور پر استعمال کیا یا محاذ آرائی نے اس کے لیے مشکلات بڑھائیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی سمجھنا چاہیے کہ سیاسی اختلاف کا جواب مذاکرات، پارلیمانی عمل اور عوامی مینڈیٹ کے احترام سے دیا جانا چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ اس صوبے کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ یہاں کے شہریوں نے اپنے پیاروں کی قربانیاں دی ہیں، سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں اور کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بارہا متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں امن و امان کی بحالی وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر دونوں حکومتوں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی پر اختلافات ہیں تو انہیں سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

تاہم ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا امن و امان کی خراب صورتِ حال کسی منتخب حکومت کو معطل کرنے کے ہر فیصلے کو خودبخود درست ثابت کر دیتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ آئین میں ہنگامی حالات کے لیے اختیارات موجود ہیں، لیکن ان کے استعمال کے لیے آئینی شرائط، مقررہ طریقۂ کار اور قانونی نگرانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قومی سلامتی کے نام پر غیر معمولی اختیارات استعمال کرتے وقت حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ اقدام کیوں ناگزیر ہے، اس کی مدت اور حدود کیا ہوں گی اور اس کے نتائج کا احتساب کیسے کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر گورنر راج کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انتظامی بہتری ہے تو اس کی کامیابی نعروں سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے ثابت ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات، شہریوں کا تحفظ، مقامی آبادی کے تحفظات کا احترام اور سیاسی انتقام کے تاثر سے اجتناب ناگزیر ہیں۔ اگر اس اقدام کو سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کو بھی اپنے طرزِ سیاست پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی۔ سیاسی قیادت کی کامیابی صرف احتجاجی اجتماعات، سخت بیانات اور مخالفین کو چیلنج کرنے میں نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ عوام کے مسائل حل کیے جائیں، صوبے میں اچھی حکمرانی کا مظاہرہ ہو، دہشت گردی کے خلاف واضح اور قابلِ عمل پالیسی پیش کی جائے اور اختلافات کے باوجود مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا جائے۔ سیاسی مقبولیت کسی جماعت کو آئین اور قانون سے بالاتر نہیں بناتی، لیکن سیاسی مخالفت کسی جماعت کے جمہوری حقوق ختم کرنے کا جواز بھی نہیں بن سکتی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ٹی آئی اپنی غلطیوں کا جائزہ لے، وفاقی حکومت اپنے فیصلے کی آئینی بنیاد واضح کرے اور ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے امن و استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔ کسی سیاسی جماعت کی غلطیوں پر تنقید کرنا درست ہے، لیکن اس کے ووٹروں کو اجتماعی طور پر مجرم سمجھنا یا ان کے جمہوری حقوق کو نظرانداز کرنا درست نہیں۔

آخر میں بات وہی ہے کہ سیاست میں کبھی مخالفین کی سختی انسان کو مشکل میں ڈالتی ہے اور کبھی اپنی ضد، غلط فیصلے اور حالات کو سمجھنے میں ناکامی خود مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے یہ لمحۂ احتساب ہے، وفاقی حکومت کے لیے آئینی ذمہ داریوں کا امتحان، اور پاکستان کے لیے جمہوری بلوغت کا ایک اہم مرحلہ۔

پاکستان کی مضبوطی کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی میں نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، اداروں کے احترام، منتخب حکومتوں کے احتساب، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے حقوق کے تحفظ میں ہے۔ اختلاف رہے، سیاست بھی ہو اور احتجاج بھی، مگر ملک اور عوام کو سیاسی ضد کی قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔

کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ کس نے کس کو شکست دی؛ تاریخ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب ملک ایک مشکل موڑ پر کھڑا تھا تو کس نے آگ بجھانے کی کوشش کی اور کس نے اسے مزید بھڑکایا۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر پاکستان ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔ ہماری پہلی ترجیح، ہماری پہلی پہچان اور ہماری پہلی وفاداری پاکستان ہے۔

سب سے پہلے پاکستان!

Leave a reply