ایک نقاب نہیں، ایک عزت نوچ لی گئی

ایک نقاب نہیں، ایک عزت نوچ لی گئی

تحریر:ثمینہ رضوان

یہ صرف ایک لمحہ نہیں تھا۔
یہ صرف ایک ہاتھ نہیں تھا جو آگے بڑھا۔
یہ صرف ایک نقاب نہیں تھا جو کھینچا گیا۔

یہ ایک عورت کی عزت تھی،
ایک مسلمان کی شناخت تھی،
اور ایک ریاست کی اخلاقی ساکھ تھی
جو ایک اسٹیج پر، سرِعام، تار تار کر دی گئی۔

ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر، جو برسوں کی محنت، تعلیم اور قربانی کے بعد ریاستی نظام کا حصہ بنی، عزت کے ساتھ اسٹیج پر آئی تھی۔ اس کے سر پر موجود نقاب اس کی کمزوری نہیں تھا، اس کا وقار تھا۔ مگر اقتدار کے نشے میں چور ایک طاقتور ہاتھ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عورت کے جسم، لباس اور مذہب پر اپنی مرضی مسلط کرے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنےپرمجبورکرتا ہے:
کیا طاقت ملنے کے بعد انسانیت چھن جاتی ہے؟
کیا عہدہ ملنے کے بعد دوسرے انسان “شے” بن جاتے ہیں؟

نقاب کھینچنا صرف کپڑے کو ہٹانا نہیں ہوتا۔
یہ عورت کو بے بس کرنا ہوتا ہے۔
یہ اس کے دل میں خوف بونا ہوتا ہے۔
یہ اسے یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ

> “تم یہاں بھی محفوظ نہیں ہو۔”

وہ لمحہ کیسا ہوگا جب ایک خاتون، سینکڑوں لوگوں کے سامنے، کیمروں کی آنکھ میں، اچانک خود کو بے پردہ، بے اختیار اور بے آواز محسوس کرے؟
کیا کوئی مرد، کوئی حکمران، کوئی وزیر اس ذلت کا تصور بھی کر سکتا ہے؟

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی دکھاتا ہے کہ خاموشی بھی جرم ہوتی ہے۔
اس اسٹیج پر کھڑے لوگ، جو ہنسے، جو چپ رہے، جو نظریں چرا گئے—
وہ سب اس عمل کے شریکِ جرم تھے۔

یہ سوال اب صرف ایک وزیر یا ایک ریاست کا نہیں رہا۔
یہ سوال پورے سماج سے ہے:

کیا مسلمان عورت کا جسم اب بھی سیاسی تجربہ گاہ ہے؟

کیا اس کے مذہبی لباس کو چھیڑنا “معمولی بات” سمجھ لی گئی ہے؟

کیا عورت کی مرضی کی کوئی وقعت نہیں، اگر سامنے طاقت ہو؟

اگر یہی حرکت کسی اور مذہب کی خاتون کے ساتھ ہوتی،
اگر کسی طاقتور نے کسی اور عقیدے کی علامت کو ہاتھ لگایا ہوتا،
تو شاید زمین آسمان ایک ہو چکا ہوتا۔

مگر یہاں متاثرہ ایک مسلمان عورت ہے،
اس لیے کہا جا رہا ہے:
“نیت ایسی نہیں تھی”
“غلط فہمی ہو گئی”
“بات بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے”

نہیں!
یہ غلط فہمی نہیں تھی۔
یہ ذہنیت تھی۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
عورت کی آزادی اس کی مرضی سے جڑی ہوتی ہے،
نہ کہ کسی حاکم کے ہاتھ سے۔

نقاب عورت کی خاموشی نہیں،
نقاب اس کا اختیار ہے۔
اور جو اختیار چھینے،
وہ ظالم کہلاتا ہے—چاہے اس کے عہدے کا نام کچھ بھی ہو۔

آج اگر اس واقعے پر اجتماعی ضمیر نہیں جاگا،
تو کل کسی اور اسٹیج پر،
کسی اور عورت کے ساتھ،
کسی اور بہانے سے
یہی ہاتھ دوبارہ بڑھے گا۔

اور تب شاید ہم سب ہی بے نقاب ہو چکے ہوں گے۔

 

 

تحریر : ثمینہ رضوان

Leave a reply