الٰہ دین کے چراغ کے اوقات

ہمارے حکمران انتخابات سے پہلے، اور آمر اقتدار حاصل کرنے کے چند ہفتے بعد تک ایسے دعوے کرتے ہیں جیسے ان کے ہاتھ الہ دین کا چراغ آ گیا ہو، لیکن اقتدار پر گرفت مضبوط ہوتے ہی عوام کو سمجھایا جاتا ہے کہ صبر کریں، ہمارے پاس کوئی الہ دین کا چراغ تو نہیں کہ سارے مسائل راتوں رات حل ہو جائیں۔ ایک وزیراعظم نے تو یہاں تک فرما دیا تھا کہ قبر تک انتظار کریں، کیونکہ دائمی سکون صرف قبر ہی میں ملتا ہے۔
دوسری طرف ہمارے عوام، بالخصوص نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہر وقت الہ دین کے چراغ کے سراغ میں رہتی ہے۔ ہر کوئی کسی غیبی امداد کا منتظر نظر آتا ہے۔ دعائیں کی جاتی ہیں، عبادات کی جاتی ہیں، عمرے اور حج کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی جاتی ہے کہ ”اے اللہ! ہماری روزی میں برکت فرما دے، ہمارے رزق میں اضافہ فرما۔“
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک فرد کی ضرورت روزانہ ایک کلو خوراک ہے اور اسے ایک کلو خوراک میسر بھی ہے تو پھر اس میں مزید اضافے اور برکت کی دعا کیوں؟ شاید ہماری خواہشات کا کوئی پیمانہ نہیں، اور یہی خواہشات ہمیں الہ دین کے چراغ کی تلاش میں رکھتی ہیں۔
بہرحال، بات الٰہ دین اور اس کے چراغ کی ہو رہی ہے تو کوئی صاحب ِ علم اللہ کا بندہ ہمیں یہ بھی سمجھا دے کہ الہ دین آخر تھا کون؟ زندہ ہے یا مر چکا ہے؟ اس کے چراغ میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ اس میں کون سا تیل استعمال ہوتا تھا؟ آبنائے ہرمز والا تیل، جو روزانہ مہنگا ہوتا ہے، یا وہ تیل جو ہماری حکومت عوام کو دیتی رہتی ہے؟
ہم نے ”چراغِ دین“ کی اصطلاح ضرور سنی ہے، جس کا مفہوم دین کی روشنی پھیلانے والا لیا جا سکتا ہے، مگر یہ ”الٰہ دین“ کون تھا؟ اس کا چراغ اسے کہاں سے ملا؟ اور اس چراغ میں کون سا ایسا تیل ہوتا تھا جو کبھی ختم نہیں ہوتا تھا اور جس کی قیمت بھی روزانہ نہیں بڑھتی تھی؟
اگر واقعی ایسا چراغ موجود تھا تو اس کی تلاش آج بھی بے حد ضروری ہے۔ شاید اسی چراغ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مسئلہ حل ہو جائے، شاید بجلی اور ایندھن کی کمی کا خطرہ ٹل جائے، شاید تعلیمی ادارے توانائی کے بحران کی وجہ سے بند نہ ہوں اور شاید غریب عوام کو سبسڈی کے پیچیدہ اور سنگلاخ راستوں سے گزرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ممکن ہے الٰہ دین دنیا سے رخصت ہو گیا ہوا ہے، لیکن اس کا چراغ تو شاید کہیں موجود ہو۔ پھر اسے تلاش کرنے میں کیا حرج ہے؟
اسی دوران ایک اور ”الٰہ دین“ چراغ ہاتھ میں لئے نئے صوبے بنانے نکلا ہوا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ نئے صوبے بنتے ہی ہر طرف چراغاں ہو جائے گا، کیونکہ بڑے بڑے صوبوں میں ایک دیے کی روشنی بہت دور تک نہیں پہنچتی، اس لئے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کر دینا چاہئے۔
یہ بات اپنی جگہ کہ بڑے صوبوں کی انتظامی مشکلات کم کرنے کے لئے نئے انتظامی یونٹوں پر سنجیدہ بحث ہونی چاہئے، لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ان کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ تھا۔ انہوں نے ترقی کے لئے جادوئی حل تلاش نہیں کیے بلکہ مضبوط ادارے، مؤثر بلدیاتی نظام، جواب دہ حکومتیں، بااختیار عوام اور قانون کی بالادستی قائم کی۔
ان ممالک میں ریاستی ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتے ہیں، مقامی حکومتیں عوام کے قریب رہ کر مسائل حل کرتی ہیں اور عدلیہ لوگوں کو بروقت انصاف فراہم کرتی ہے۔ہماری اصل ضرورت شاید الہ دین کا چراغ نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جس میں چراغ جلانے کے لئے کسی الٰہ دین کی ضرورت نہ پڑے۔ ایسا نظام جہاں حکمران انتخابات سے پہلے چراغ دکھانے کے بجائے اپنی کارکردگی کا حساب دیں، عوام غیبی امداد کے انتظار کے بجائے اپنے حقوق کے لئے منظم ہوں اور ریاست جادو کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اگر ایسا نظام قائم ہو جائے تو شاید ہمیں الٰہ دین بھی تلاش نہ کرنا پڑے اور اس کے چراغ کی ضرورت بھی نہ رہے۔
مختار چوہدری کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 22 ستمبر 2026 کو شائع ہوا ۔









