ایل نینو کا چیلنج اور پاکستان کی موسمیاتی تیاری

ایل نینو کا چیلنج اور پاکستان کی موسمیاتی تیاری

تحریر:محمد رشید

پاکستان اس وقت سیاسی اور انتظامی معاملات کی ایک طویل فہرست میں الجھا ہوا ہے، مگر اس دوران ایک ایسا مسئلہ ہماری طرف بڑھ رہا ہے جس کا تعلق براہِ راست عوام کی زندگی، زراعت، پانی، صحت اور معیشت سے ہے۔ یہ مسئلہ بدلتا ہوا عالمی موسم اور ممکنہ ایل نینو کا اثر ہے۔

ایل نینو محض سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا نام نہیں۔ بحرالکاہل کے گرم ہونے سے دنیا کے مختلف حصوں میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں تبدیلیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس کے اثرات ہر ملک میں ایک جیسے نہیں ہوتے، لیکن پاکستان جیسے موسمیاتی دباؤ کا شکار ملک کے لیے معمولی تبدیلی بھی بڑے نتائج پیدا کرسکتی ہے۔

ہم پہلے ہی شدید گرمی، اچانک بارشوں، شہری سیلاب، خشک سالی، پانی کی کمی اور گلیشیئرز سے متعلق خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ایل نینو کا اثر بھی نمایاں ہوجاتا ہے تو ہمیں محض موسمی پیش گوئی سننے کے بجائے عملی تیاری کرنا ہوگی۔

پانی کا دوہرا بحران

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف بارشوں کے دوران پانی تباہی مچاتا ہے اور دوسری طرف خشک موسم میں یہی ملک پانی کی کمی سے پریشان نظر آتا ہے۔ بارش کے پانی کا بڑا حصہ مناسب ذخائر اور انتظام نہ ہونے کے باعث ضائع ہوجاتا ہے، جبکہ بعد میں زراعت، صنعت اور شہری ضروریات کے لیے پانی کی قلت بڑھتی جاتی ہے۔

اگر موسمی حالات کے باعث مون سون کے معمولات متاثر ہوئے تو زرعی شعبے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے سے نہ صرف کسان کی آمدنی کم ہوگی بلکہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بھی پیدا ہوگا۔

اس صورتحال کا حل صرف بڑے ڈیموں میں نہیں۔ چھوٹے ذخائر، بارشی پانی کے تالاب، شہری سطح پر واٹر ہارویسٹنگ، زیرزمین پانی کی بحالی اور نہروں کے بہتر انتظام کو بھی قومی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔

گرمی کا بڑھتا ہوا خطرہ

پاکستان کے کئی شہر ہر سال شدید گرمی کی لپیٹ میں آتے ہیں۔ ہیٹ ویو اب غیر معمولی واقعہ نہیں رہی بلکہ شہری زندگی کا ایک مستقل خطرہ بنتی جارہی ہے۔

شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر بزرگوں، بچوں، مزدوروں، کم آمدنی والے خاندانوں اور ان افراد پر پڑتا ہے جو کھلے ماحول میں کام کرتے ہیں۔ اس لیے ہیٹ ویو سے نمٹنے کی حکمت عملی صرف تعلیمی ادارے بند کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

شہری علاقوں میں سایہ دار مقامات، پینے کے صاف پانی کی دستیابی، ہسپتالوں میں ہنگامی انتظامات، گرمی سے متاثرہ افراد کے لیے فوری طبی مراکز اور شجرکاری کے عملی منصوبے ضروری ہیں۔ شہروں کی منصوبہ بندی میں درخت، سبز مقامات اور قدرتی ہوا کے راستوں کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔

کسان کو پہلے سے خبردار کرنا ہوگا

موسم کی تبدیلی کا سب سے فوری اثر کسان پر پڑتا ہے۔ بوائی، آبپاشی، کھاد، فصلوں کے انتخاب اور کٹائی کے تمام فیصلے موسم سے جڑے ہوتے ہیں۔

اگر بارشوں کے معمول میں تبدیلی کا امکان ہو تو کسانوں کو بروقت اور قابلِ فہم معلومات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ زرعی محکموں کو موسمیاتی پیش گوئی کو عام کسان تک پہنچانے کے لیے مقامی زبانوں اور جدید ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے۔

ساتھ ہی ایسی فصلوں اور زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں۔ آبپاشی کے روایتی نظام میں پانی کے ضیاع کو کم کرکے جدید طریقوں، خصوصاً ڈرپ اور دیگر مؤثر تکنیکوں کو فروغ دینا ہوگا۔

سیلاب صرف تباہی نہیں، پانی کا ذریعہ بھی ہے

پاکستان میں شہری سیلاب ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ جب قدرتی نالے بند ہوں، پانی کے راستوں پر تعمیرات ہوجائیں اور نکاسی آب کا نظام کمزور ہو تو چند گھنٹوں کی بارش بھی بڑے شہر کو مفلوج کرسکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ برساتی پانی کے قدرتی راستوں کو محفوظ کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور جہاں ممکن ہو وہاں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام بنایا جائے۔

اگر ہم ہر بار بارش کے بعد امدادی سرگرمیوں پر اربوں روپے خرچ کرتے رہیں گے تو یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوگا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ بارش سے پہلے نکاسی آب کا جائزہ لیا جائے، حساس علاقوں کی نشاندہی ہو، ریسکیو وسائل تیار رکھے جائیں اور شہریوں کو واضح ہدایات دی جائیں۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

ایل نینو اور دیگر موسمیاتی خطرات کے لیے ایک مربوط قومی منصوبہ وقت کی ضرورت ہے۔ محکمہ موسمیات، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی ادارے، آبپاشی، زراعت، صحت اور ضلعی انتظامیہ کو الگ الگ کام کرنے کے بجائے ایک مشترکہ نظام کے تحت کام کرنا چاہیے۔

صرف وارننگ جاری کرنا کافی نہیں۔ اگر کسی علاقے میں شدید بارش یا گرمی کا خدشہ ہے تو وارننگ کے ساتھ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ کون سا ادارہ کیا قدم اٹھائے گا، لوگوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا، طبی سہولیات کہاں دستیاب ہوں گی اور ضروری خوراک و ادویات کیسے پہنچائی جائیں گی۔

اسی طرح اسکولوں، ہسپتالوں، صنعتی علاقوں، دیہی آبادیوں اور شہری انفراسٹرکچر کے لیے الگ الگ موسمیاتی ہنگامی منصوبے تیار کیے جانے چاہئیں۔

اب ردِعمل نہیں، پیش بندی درکار ہے

پاکستان کو ایک ایسے حکومتی کلچر سے نکلنا ہوگا جہاں قدرتی آفت آنے کے بعد اجلاس، اعلانات اور امدادی پیکیج شروع ہوتے ہیں۔ جدید ریاست کی پہچان یہ ہے کہ خطرہ آنے سے پہلے تیاری مکمل ہو۔

اگر شدید گرمی کا امکان ہے تو ہسپتال ابھی تیار ہونے چاہئیں۔ اگر سیلاب کا خدشہ ہے تو نالوں اور نکاسی آب کے راستے ابھی صاف ہونے چاہئیں۔ اگر پانی کی کمی متوقع ہے تو ذخیرہ اور بچت کی حکمت عملی ابھی بننی چاہیے۔ اگر کسانوں کو موسم میں تبدیلی کا سامنا ہوسکتا ہے تو انہیں بروقت رہنمائی ابھی ملنی چاہیے۔

ایل نینو کو پاکستان روک نہیں سکتا، نہ ہی عالمی موسم کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرسکتا ہے۔ لیکن بہتر منصوبہ بندی، مضبوط اداروں، جدید موسمیاتی معلومات اور سیاسی عزم کے ذریعے اس کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اصل امتحان یہ نہیں کہ آنے والا موسمیاتی مرحلہ کتنا شدید ثابت ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستان اس کے لیے کتنا تیار ہے۔

وقت گزرنے کے بعد کیا جانے والا انتظام اکثر صرف نقصان کم کرنے کی کوشش ہوتا ہے۔ دانش مندی یہ ہے کہ خطرہ آنے سے پہلے تیاری کرلی جائے۔ موسمیاتی بحران اب مستقبل کا مسئلہ نہیں، آج کی حقیقت ہے—اور اس کا جواب بھی آج ہی دینا ہوگا۔

Leave a reply