
اکثر افراد دوا کے پیکٹ پر درج ایکسپائری تاریخ دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ دوا اس تاریخ تک لازمی محفوظ رہے گی، لیکن ماہرین صحت کے مطابق کچھ ادویات ایسی ہوتی ہیں جن کی افادیت اور حفاظت پیکنگ کھلنے کے بعد متاثر ہونا شروع ہو سکتی ہے۔
گھروں میں عام طور پر کھانسی کے شربت، آنکھوں کے قطرے یا دیگر مائع ادویات ایک بار استعمال کرنے کے بعد رکھ دی جاتی ہیں اور کئی ہفتوں یا مہینوں بعد صرف ایکسپائری تاریخ دیکھ کر دوبارہ استعمال کر لی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عادت بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دوا کی بوتل، ٹیوب یا ڈراپر کھولنے کے بعد اس کا رابطہ ہوا، نمی اور جراثیم سے ہو سکتا ہے، جس کے باعث بعض ادویات میں آلودگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر دوا کا رنگ، بو، ساخت یا شکل تبدیل ہو جائے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
تاہم ہر دوا کے لیے کھولنے کے بعد ایک جیسا اصول نہیں ہوتا۔ کچھ گولیاں اور کیپسول اگر اپنی اصل پیکنگ میں محفوظ رکھے جائیں تو اکثر اپنی ایکسپائری تاریخ تک قابل استعمال رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض سیرپ بھی مناسب درجہ حرارت اور صفائی کے ساتھ رکھے جانے کی صورت میں زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کچھ مخصوص ادویات کے لیے زیادہ احتیاط ضروری ہے۔ پانی ملا کر تیار کیے جانے والے اینٹی بایوٹک سیرپ عموماً محدود مدت تک استعمال کیے جا سکتے ہیں اور کئی صورتوں میں انہیں تیار کرنے کے بعد چند دنوں سے دو ہفتوں کے اندر استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔
آنکھوں کے قطرے بھی حساس ادویات میں شامل ہیں۔ بوتل کھلنے کے بعد ان میں جراثیم شامل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس لیے انہیں عموماً مقررہ مدت کے بعد استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح انسولین اور بعض انجیکشنز کو مخصوص درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور کھلنے کے بعد ان کے استعمال کی مدت مختلف ہو سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر دوا استعمال کرنے سے پہلے اس کے لیبل پر دی گئی ہدایات ضرور پڑھیں۔ خاص طور پر آنکھوں کے قطرے، انسولین، مائع اینٹی بایوٹک اور فریج میں رکھی جانے والی ادویات کے معاملے میں اضافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر میں موجود پرانی یا کھلی ہوئی دواؤں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینا چاہیے اور اگر کسی دوا کے محفوظ ہونے پر شک ہو تو استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
دوا کھولنے کی تاریخ نوٹ کر لینا بھی ایک اچھی عادت ہے، کیونکہ بعض ادویات کے لیے اصل استعمال کی مدت بوتل یا پیکٹ کھلنے کے بعد شروع ہوتی ہے، نہ کہ صرف پیکٹ پر درج ایکسپائری تاریخ سے۔









