گولی نہیں، ایک گلاس جوس! ذہنی دباؤ سے متعلق نئی تحقیق میں اہم انکشاف

0
9
گولی نہیں، ایک گلاس جوس! ذہنی دباؤ سے متعلق نئی تحقیق میں اہم انکشاف

برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی سے وابستہ ایک حالیہ تحقیق میں پھلوں اور سبزیوں کے استعمال اور ذہنی کیفیت کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق میں 42 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو معمول کی خوراک میں پھل اور سبزیاں کم استعمال کرتے تھے۔ شرکا کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے چار ہفتوں تک ان کی غذائی عادات اور موڈ میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔
ایک گروپ نے معمول کی خوراک جاری رکھی، جبکہ دوسرے گروپ کو روزانہ پانچ حصے پھل اور سبزیاں استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی۔ تیسرے گروپ نے بھی یہی غذائی معمول اپنایا اور ساتھ روزانہ ایک گلاس خالص پھلوں کا جوس یا اسموتھی استعمال کی۔
نتائج میں جوس یا اسموتھی استعمال کرنے والے گروپ کے موڈ اور ذہنی کیفیت میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی علامات میں بھی کمی کے اشارے ملے۔
محققین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے روزانہ مطلوبہ مقدار میں پھل اور سبزیاں تیار کرکے کھانا مشکل ہوسکتا ہے، اس لیے 100 فیصد خالص جوس یا اسموتھی ایک آسان اضافی ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اس تحقیق کی مدت مختصر تھی اور شرکا کی تعداد بھی کم تھی، اس لیے ان نتائج کو ڈپریشن کے باقاعدہ علاج کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ مزید تحقیق سے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ طویل مدت میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صحت مند غذا ذہنی صحت کے لیے معاون ہوسکتی ہے، لیکن مسلسل اداسی، بے دلی یا ڈپریشن کی علامات کی صورت میں صرف خوراک پر انحصار کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Leave a reply