
عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے دیگر حصوں کی طرح دماغ میں بھی ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جو بظاہر محسوس نہیں ہوتیں، لیکن دماغ کے اندر خلیوں کے کام اور حفاظتی نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں ماہرین نے تقریباً 50 سال کی عمر کے بعد دماغ کے ایک اہم حصے ہپوکیمپس میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ ہپوکیمپس یادداشت بنانے اور نئی معلومات سیکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے دوران 20 سے 95 سال تک کی عمر کے ایسے 40 افراد کے دماغی ٹشوز کا تجزیہ کیا گیا جنہیں زندگی میں دماغی بیماری لاحق نہیں ہوئی تھی۔ سائنس دانوں نے جدید تکنیکوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی خلیوں میں کس نوعیت کی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
دماغ کے حفاظتی خلیوں میں تبدیلی
ماہرین نے خاص طور پر مائیکروگلیا نامی خلیوں کا جائزہ لیا۔ یہ خلیے دماغ کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور دماغ کو نقصان دہ عوامل سے بچانے کے ساتھ ساتھ سوزش کو قابو کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 50 سال کی عمر کے بعد ان حفاظتی خلیوں میں کمی کا رجحان دیکھا جاسکتا ہے، جو بعد کی عمر میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے خلیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جن میں سوزش پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دماغ میں مسلسل سوزش عمر سے متعلق بعض بیماریوں کے حوالے سے اہم ہوسکتی ہے، تاہم موجودہ تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ 50 سال کے بعد ہر فرد کو الزائمر یا ڈیمینشیا لاحق ہوگا۔
خون اور دماغ کے درمیان حفاظتی رکاوٹ
تحقیق میں دماغ کے بلڈ برین بیریئر میں عمر کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ یہ حفاظتی نظام خون میں موجود بعض نقصان دہ مادوں کو دماغ تک پہنچنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ اس نظام میں تبدیلی آنے سے دماغ کے اندرونی ماحول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل کو بہتر طور پر سمجھنے سے مستقبل میں عمر سے متعلق دماغی بیماریوں کی تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔
کیا 50 سال کے بعد دماغ خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے؟
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ تحقیق کے نتائج کو اس انداز میں نہیں سمجھنا چاہیے کہ 50 سال کی عمر کے بعد دماغ لازماً خراب ہونے لگتا ہے۔ تحقیق میں سامنے آنے والی تبدیلیاں عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے اندر ہونے والے حیاتیاتی عمل کی نشاندہی کرتی ہیں، لیکن ان کا ہر فرد کی ذہنی صلاحیت یا بیماری کے خطرے سے براہ راست تعلق ابھی واضح نہیں ہے۔
سائنس دان اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ مائیکروگلیا اور دماغ کے دیگر خلیوں میں عمر کے ساتھ تبدیلی کیوں آتی ہے اور آیا ان تبدیلیوں کو کسی حد تک قابو میں رکھ کر عمر رسیدہ دماغ کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ 50 سال کے آس پاس دماغ میں بعض خاموش حیاتیاتی تبدیلیاں شروع ہوسکتی ہیں، جن میں حفاظتی خلیوں اور سوزش سے متعلق تبدیلیاں نمایاں ہیں۔ یہ دریافت عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کی صحت کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، تاہم اس کے طبی اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔









