
اسلام آباد: شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کو عام طور پر جسمانی صحت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی عالمی تحقیق میں ان کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔
تحقیق میں دنیا کے مختلف حصوں میں کی جانے والی 23 طبی مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق روزانہ کے درجہ حرارت میں صرف ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ نوعمروں میں ذہنی دباؤ اور بے چینی کی علامات میں معمولی مگر قابلِ ذکر اضافہ دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہوسکتی ہے جب معمول کی گرمی کے بجائے کئی روز تک ہیٹ ویو جاری رہے۔ ایسی صورتحال میں 5 سے 18 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
محققین نے شدید گرمی کے دوران بچوں اور نوجوانوں میں بے چینی، ڈپریشن اور ذہنی صحت سے متعلق ہنگامی طبی امداد کی ضرورت میں اضافے کا تعلق بھی نوٹ کیا۔ بعض مطالعات میں زیادہ درجہ حرارت اور خودکشی کی کوششوں کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ گرمی کا سامنا کرنے والا ہر بچہ ذہنی بیماری کا شکار ہوجائے گا۔
ماہرین کے مطابق مسلسل شدید گرمی بچوں کے معمولات زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ کھیلوں اور بیرونی سرگرمیوں میں کمی، اسکول کے اوقات میں تبدیلی اور خاص طور پر گرم راتوں کے باعث نیند متاثر ہونے سے بچوں کے مزاج اور رویوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آرہی ہیں، جس کے باعث اس کے ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ماہرین کے مطابق لڑکپن اور نوعمری ذہنی و جذباتی تبدیلیوں کا حساس دور ہوتا ہے، اس لیے اس عمر میں مسلسل گرمی، نیند کی کمی اور روزمرہ سرگرمیوں میں خلل ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ شواہد میں کچھ حدود موجود ہیں اور گرمی اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کو مزید سمجھنے کے لیے اضافی تحقیق ضروری ہے۔
موسمیاتی پالیسی میں ذہنی صحت کو شامل کرنے کی تجویز
تحقیق کے مصنفین نے تجویز دی ہے کہ ہیٹ ویوز سے نمٹنے کے منصوبوں میں صرف جسمانی صحت کے تحفظ پر توجہ نہ دی جائے بلکہ بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بھی شامل کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے اسکولوں، والدین اور صحت کے اداروں کو شدید گرمی کے دوران بچوں کی نیند، رویوں، مزاج اور ذہنی کیفیت میں ممکنہ تبدیلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
محققین کے مطابق جیسے جیسے عالمی سطح پر شدید گرمی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، گرمی سے بچاؤ کی حکمت عملی میں جسمانی اور ذہنی دونوں پہلوؤں کو اہمیت دینا ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔









