12 اگست کو آسمان پر ہوگا حیران کن اجتماع، 6 سیارے، سورج گرہن اور شہابی بارش

فلکیاتی مظاہر میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے 12 اگست کی رات خاص اہمیت رکھتی ہے، جب آسمان پر کئی نمایاں واقعات ایک ہی عرصے میں دیکھنے کو ملیں گے۔ ان میں سیاروں کی قطار، نیا چاند، سورج گرہن اور پرسیڈز شہابی بارش شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق 11 اور 12 اگست کے دوران مشتری، عطارد، مریخ، یورینس، زحل اور نیپچون آسمان میں ایک خاص ترتیب میں دکھائی دیں گے۔ تاہم ان تمام سیاروں کو ایک ساتھ کھلی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ مشتری، عطارد، مریخ اور زحل مناسب حالات میں بغیر دوربین کے نظر آسکتے ہیں، جبکہ یورینس کے لیے بائنوکولر یا دوربین اور نیپچون کے لیے نسبتاً طاقتور ٹیلی اسکوپ درکار ہوگی۔
اسی عرصے میں نیا چاند بھی ہوگا، جس کے باعث رات کے آسمان پر چاندنی نہ ہونے کے برابر رہے گی۔ تاریک آسمان شہابیوں اور دور دراز اجرام فلکی کے مشاہدے کے لیے زیادہ سازگار سمجھا جاتا ہے۔
12 اگست کو سورج گرہن بھی ہوگا، تاہم اس کا مکمل مرحلہ ہر جگہ سے نظر نہیں آئے گا۔ مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی اسپین سمیت مخصوص علاقوں سے کیا جاسکے گا، جبکہ بعض دیگر خطوں میں جزوی گرہن نظر آئے گا۔
سورج گرہن دیکھنے والے افراد کے لیے ماہرین نے خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔ سورج کو براہ راست دیکھنے سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے صرف مستند سولر ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر استعمال کیے جانے چاہییں۔ عام دھوپ کے چشمے سورج گرہن دیکھنے کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔
دوسری جانب 12 اور 13 اگست کی درمیانی رات پرسیڈز شہابی بارش بھی اپنے عروج کے قریب ہوگی۔ یہ شہابی بارش زمین کے اس خطے سے گزرنے کے باعث پیدا ہوتی ہے جہاں دمدار ستارے Swift-Tuttle کے چھوڑے ہوئے ذرات موجود ہیں۔ زمین کا ماحول میں داخل ہونے والے یہ ذرات روشن لکیروں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، جنہیں عام طور پر ٹوٹتے ہوئے تارے کہا جاتا ہے۔
مناسب اور تاریک آسمان میں فی گھنٹہ درجنوں شہاب دیکھے جاسکتے ہیں، جبکہ بہترین حالات میں تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس سال نئے چاند کی وجہ سے چاندنی کم ہونے کے باعث پرسیڈز کے مشاہدے کے لیے حالات نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے۔
شہابی بارش دیکھنے کے لیے شہر کی روشن عمارتوں اور مصنوعی روشنی سے دور کسی کھلی اور تاریک جگہ کا انتخاب زیادہ موزوں ہوگا۔ مشاہدے سے قبل تقریباً 20 سے 30 منٹ تک اندھیرے میں رہنے سے آنکھوں کو ماحول کے مطابق ڈھلنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان تمام فلکیاتی مظاہر کا ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت میں مکمل طور پر مشاہدہ ممکن نہیں، کیونکہ سورج گرہن کا نظر آنا مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہوگا، جبکہ سیاروں اور شہابی بارش کا مشاہدہ مقامی وقت، موسم، افق اور آسمان کی تاریکی پر منحصر ہوگا۔
اس کے باوجود 12 اگست کے آس پاس کا عرصہ آسمان کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے سال کے دلچسپ ترین اوقات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔12 اگست کو آسمان پر ہوگا حیران کن اجتماع، 6 سیارے، سورج گرہن اور شہابی بارش









