میر رضا قتل کیس: گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم ریکارڈ پولیس کے ہاتھ لگ گیا

0
5
میر رضا قتل کیس: گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم ریکارڈ پولیس کے ہاتھ لگ گیا

کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں پولیس کو گیسٹ ہاؤس کی ملکیت اور کرایے سے متعلق اہم دستاویزات مل گئی ہیں، جبکہ پولیس ویریفکیشن میں درج کرایہ نامہ بھی تفتیش کا حصہ بن گیا ہے۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے ریکارڈ کے مطابق گلستانِ جوہر میں واقع مکان C-349 کی ملکیت طاہرہ سلطانہ کے نام بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مکان ایک شخص لیاقت نے کرائے پر حاصل کیا تھا اور اسے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مکان مالکن اور کرایہ دار کے درمیان معاہدے کا ریکارڈ پولیس کے متعلقہ سافٹ ویئر میں بھی موجود ہے۔ کرایہ نامے میں دو گواہوں کے نام بھی درج ہیں۔

گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق یہ دستاویزات اس وقت خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے۔ شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے ان الزامات کے خلاف سائبر کرائم حکام کو درخواست بھی دی تھی۔

دوسری جانب پولیس میر رضا کی ہلاکت سے قبل اور اس کے وقت گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد، عملے کی نقل و حرکت اور عمارت کے استعمال سے متعلق شواہد جمع کر رہی ہے۔

تفتیش میں گیسٹ ہاؤس میں کام کرنے والے 14 سالہ شاہد کا بیان بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ شاہد کے مطابق وہ دن کے اوقات میں وہاں کام کرتا تھا اور اس نے میر رضا کو واقعے سے قبل اس جگہ پر نہیں دیکھا تھا۔

شاہد نے پولیس کو بتایا کہ میر رضا کے والد جب گیسٹ ہاؤس پہنچے تو وہاں شور شرابہ ہوا، جس کے بعد عملے کے کچھ افراد عمارت کے پچھلے حصے سے فرار ہوگئے۔ اس کے مطابق عملے کے بعض افراد دیوار عبور کرنے کے لیے درخت پر چڑھے اور وہاں سے نکل گئے۔

پولیس نے فرار ہونے والے عملے کے تین افراد میں سے دو کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ایک شخص کی تلاش جاری ہے۔ شاہد کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق گیسٹ ہاؤس سے متعلق مجموعی طور پر 6 افراد پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان سے میر رضا کیس کے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

کیس میں اس وقت مزید پیش رفت اس وقت ہوئی جب قبر کشائی کے بعد آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا۔ رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر متعدد زخموں اور تشدد کے آثار کی نشاندہی ہوئی، جبکہ پسلیوں، دانتوں اور کھوپڑی پر بھی چوٹیں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق گولی پیچھے کی سمت سے لگی تھی۔

دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد پولیس نے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر دی، جبکہ اغوا کی دفعہ پہلے ہی مقدمے کا حصہ تھی۔

پولیس میر رضا کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی کھنگال رہی ہے۔ تفتیش کے مطابق موت سے پہلے ان کی علی اور دوست عبداللہ سے فون پر بات چیت ہوئی، جبکہ فون پر موصول ہونے والے آخری چند پیغامات کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔

میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد کے علاقے سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز گلستانِ جوہر سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم مقتول کے اہل خانہ اور وکیل نے تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا تھا۔

کیس کی حساسیت کے باعث سندھ حکومت نے عدالتی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں یہ فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔ حکام کے مطابق متاثرہ خاندان نے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور فی الحال یہی ٹیم کیس کی تحقیقات جاری رکھے گی۔

Leave a reply