آبنائے ہرمز: ایران نے امریکا کے سامنے 6 شرائط رکھ دیں

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے چھ نئی شرائط پیش کردی ہیں، جن میں جنگ کے مالی نقصانات کا ازالہ بھی شامل ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کے لیے امریکا کو جنگ سے ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ ہرمز کے معاملے پر بات چیت میں عمومی مفاہمتی فریم ورک طے پا گیا ہے، تاہم اس کی اعلیٰ سطح پر حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ ان کے مطابق امریکا مفاہمتی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے اور آبنائے میں متبادل بحری راستے بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عمان کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
عمان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹول عائد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم واشنگٹن عملی اقدامات دیکھے بغیر اس یقین دہانی پر مکمل اعتماد نہیں کرے گا۔
جے ڈی وینس کے مطابق امریکا تجارتی بحری جہازوں پر حملے نہ ہونے کی واضح ضمانت چاہتا ہے، جبکہ آبنائے میں موجود بارودی سرنگیں بحری آمدورفت کے لیے ایک اہم رکاوٹ ہیں۔ امریکا خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل کو جنگ سے قبل کی سطح پر بحال کرنا بھی چاہتا ہے۔









