امریکا نے سولر اور سیمی کنڈکٹر شعبوں میں چین کا اثر کم کرنے کے لیے نئی تجارتی حکمت عملی متعارف کرا دی

0
37
امریکا نے سولر اور سیمی کنڈکٹر شعبوں میں چین کا اثر کم کرنے کے لیے نئی تجارتی حکمت عملی متعارف کرا دی

امریکی حکومت نے چین کے ساتھ ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے پیش نظر سولر پینلز اور سیمی کنڈکٹرز کی صنعت کے لیے نئی تجارتی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق پولی سلیکون اور اس سے تیار ہونے والی مختلف مصنوعات کی درآمد پر نئی شرائط لاگو کی جائیں گی، جبکہ ان مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف بھی عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدامات دسمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔

پولی سلیکون ایک انتہائی خالص سلیکون ہے جو جدید چپس اور سولر پینلز کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی پیداوار کا بڑا حصہ چین میں ہوتا ہے، جس کے باعث امریکا کو اس شعبے میں بیرونی سپلائی پر کافی انحصار کرنا پڑتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد ملک کے اندر پولی سلیکون، سیمی کنڈکٹرز اور سولر مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت، توانائی اور قومی سلامتی سے متعلق اہم شعبوں کے لیے سپلائی چین کو مضبوط بنایا جا سکے۔

امریکی سولر انڈسٹری طویل عرصے سے چینی کمپنیوں پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ حکومتی معاونت کے باعث کم قیمتوں پر مصنوعات عالمی مارکیٹ میں فراہم کرتی ہیں۔ بعض کمپنیوں نے امریکی تجارتی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنی پیداوار دوسرے ممالک منتقل بھی کی۔

امریکا میں اس وقت پولی سلیکون تیار کرنے والی چند ہی بڑی تنصیبات موجود ہیں، جن میں مشی گن کی ہیملوک سیمی کنڈکٹر اور ٹینیسی کی واکر کیمی شامل ہیں۔ ہیملوک نے حکومتی فیصلے کو مقامی صنعت کے لیے مثبت قدم قرار دیا، جبکہ واکر کیمی نے کہا کہ وہ پالیسی کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے پولی سلیکون کی فراہمی اہم ہے، تاہم اس خام مال کی سب سے بڑی طلب سولر سیکٹر سے آتی ہے۔ چپ سازی میں اس کے استعمال کا حصہ نسبتاً کم ہے۔

امریکا میں 2022 کے بعد سولر صنعت میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، لیکن زیادہ تر توجہ سولر پینلز کی اسمبلی تک محدود رہی۔ سولر ویفرز اور سیلز جیسے اہم حصوں کے لیے امریکی مارکیٹ اب بھی درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔

امریکی سولر کمپنیوں نے نئی پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا اور توانائی کے شعبے میں امریکا کی خود انحصاری بہتر ہو گی۔

حکومت کے مطابق نئی پالیسی میں پولی سلیکون، ویفرز، سولر سیلز اور پینلز کے لیے درآمدی معیار اور کم از کم قیمتوں کا نظام بھی شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایسی کمپنیوں کے لیے مراعاتی پروگرام تیار کیے جائیں گے جو امریکا میں ان مصنوعات کی فیکٹریاں قائم کریں گی۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے نفاذ سے پہلے درآمد کنندگان اضافی ذخیرہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے باعث مختصر مدت میں درآمدات بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم سولر صنعت سے وابستہ اداروں کو امید ہے کہ نئے اقدامات طویل مدت میں امریکی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گے۔

Leave a reply