غزہ: تقریباً تین سال بعد ملبے سے ملنے والی 112 باقیات کی اجتماعی تدفین

غزہ میں تقریباً تین سال قبل ہونے والے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں ملبے تلے دب جانے والے 112 فلسطینیوں کی باقیات برآمد ہونے کے بعد انہیں اجتماعی جنازے کے ذریعے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ فلسطینی حکام کے مطابق یہ افراد الحساینہ (ابو شریعہ) خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جو نومبر 2023 میں ہونے والے ایک حملے سے شدید متاثر ہوا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ریسکیو کارروائی کے دوران تقریباً 17 روز تک ملبہ ہٹایا گیا، جس کے بعد درجنوں افراد کی باقیات نکالی گئیں۔ ان کی شناخت کپڑوں، جسمانی نشانات، طبی امپلانٹس، زیورات اور اہلِ خانہ کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے کی گئی۔
اجتماعی جنازے میں خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد، مقامی شہریوں اور دیگر سوگواروں نے شرکت کی۔ فلسطینی حکام نے اسے غزہ جنگ کے دوران ہونے والے بڑے اجتماعی جنازوں میں سے ایک قرار دیا۔
خاندان کے ایک رکن نے کہا کہ برسوں بعد اپنے عزیزوں کی تدفین کا موقع ملنا اگرچہ غم کو تازہ کر گیا، تاہم انہیں اس بات سے کچھ اطمینان ملا کہ ان کے پیاروں کو باقاعدہ دفن کر دیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق نومبر 2023 میں ہونے والے اس مخصوص حملے کے بارے میں اسرائیلی فوج کا اس وقت کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تھا، جبکہ حالیہ تبصرے کی درخواست پر بھی فوری ردعمل موصول نہیں ہوا۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ متعدد لاپتا افراد کی باقیات اب بھی ملبے تلے موجود ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ اگر بھاری مشینری اور وسائل دستیاب ہوں تو مزید متاثرین کی باقیات نسبتاً کم وقت میں نکالی جا سکتی ہیں








