اپنا چہرہ کرائے پر دیں، اے آئی ڈراموں سے سینکڑوں ڈالر کمائیں

0
19
اپنا چہرہ کرائے پر دیں، اے آئی ڈراموں سے سینکڑوں ڈالر کمائیں

چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ متعارف کرا دیا ہے۔ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے افراد اپنے چہرے یا تصاویر کو لائسنس دے کر معاوضہ حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ان چہروں کو اے آئی سے تیار کیے جانے والے ویڈیوز اور مائیکرو ڈراموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایسے پلیٹ فارمز پر رجسٹرڈ افراد کی تصاویر عمر، جنس اور ظاہری خصوصیات کے مطابق دستیاب ہوتی ہیں، جہاں پروڈیوسرز اپنی ضرورت کے مطابق مختلف چہروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان چہروں کی مدد سے مصنوعی ذہانت نئے کردار تخلیق کرتی ہے اور اصل فرد کو اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ رجحان چین میں مائیکرو ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ فروغ پا رہا ہے۔ مختصر دورانیے کے یہ ڈرامے خاص طور پر موبائل فون صارفین کے لیے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کی تیاری میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

چین کی متعدد کمپنیاں اس شعبے میں خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ بعض پلیٹ فارمز کے مطابق رجسٹرڈ افراد کو فی پروجیکٹ یا فی قسط معاوضہ دیا جاتا ہے، جبکہ کمپنیاں اس پر اپنا کمیشن بھی وصول کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ماڈل جیسے چہروں ہی نہیں بلکہ مختلف عمر اور منفرد خدوخال رکھنے والے افراد کی بھی طلب موجود ہے۔

تاہم اس کاروبار کے ساتھ قانونی اور اخلاقی خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ ان کے چہرے اجازت کے بغیر اے آئی ویڈیوز میں استعمال کیے گئے۔ بعض معاملات میں متعلقہ مواد کو پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا، جبکہ غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے یا بائیومیٹرک ڈیٹا کو لائسنس دینے سے پہلے معاہدے کی تمام شرائط کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ ایک بار تصاویر ڈیجیٹل نظام کا حصہ بن جائیں تو مستقبل میں انکے استعمال پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کیمطابق واضح قوانین، شفاف معاہدے اور مؤثر نگرانی ہی اس شعبے میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب بعض ماڈلز اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد مستقبل میں ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کے باعث اپنے چہرے کے حقوق لائسنس کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، تاہم اس کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار قانونی تحفظ، صارفین کے اعتماد اور صنعت کے ضابطوں پر ہوگا۔

Leave a reply