
کن دوائیوں کے ساتھ ملٹی وٹامنز لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیںصحت مند رہنے کے لیے وٹامنز اور سپلیمنٹس کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے، تاہم طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مختلف وٹامنز اور دوائیوں کا بغیر مشورے کے ایک ساتھ استعمال بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئرن اور کیلشیم کی گولیاں ایک ساتھ لینے سے آئرن کے جذب ہونے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خون کی کمی کے علاج پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح تھائیرائیڈ کی دوا لیوو تھائروکسین کے ساتھ آئرن لینے سے دوا کی تاثیر کم ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے خون پتلا کرنے والی دوا وارفرین کے ساتھ وٹامن کے کے استعمال میں بھی احتیاط کی ہدایت کی ہے، کیونکہ اس سے خون جمنے یا زیادہ خون بہنے کے خطرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وٹامن ای کی زیادہ مقدار بھی خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں خون بہنے کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زنک کی ضرورت سے زیادہ مقدار جسم میں کاپر کی کمی کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ وٹامن اے، ڈی، ای اور کے چونکہ جسم میں ذخیرہ ہوتے رہتے ہیں، اس لیے ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال جگر اور گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق تھکاوٹ یا کمزوری کی صورت میں خود سے آئرن یا وٹامن بی 12 کا استعمال شروع کرنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ یہ علامات کسی اور بیماری یا نیند کی کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی وٹامن یا سپلیمنٹ کا استعمال شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ٹیسٹ کروائیں تاکہ صرف وہی وٹامن استعمال کیے جائیں جن کی جسم کو واقعی ضرورت ہو۔









