
ہالی ووڈ اداکار ٹام ہالینڈ نے کہا ہے کہ وہ اسپائیڈر مین کے کردار سے اس وقت تک جڑے رہنا چاہتے ہیں جب تک شائقین اور فلم اسٹوڈیوز انہیں اس کردار میں دیکھنا پسند کریں گے۔
ٹام ہالینڈ، جو دنیا بھر میں پیٹر پارکر عرف اسپائیڈر مین کے نام سے مشہور ہیں، نے اپنی نئی فلم سے قبل فرنچائز کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مارول اور سونی کے ساتھ ان کا سفر ایک خاندان جیسا بن چکا ہے۔
اداکار کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس کردار سے ان کا تعلق مزید مضبوط ہوا ہے اور ٹیم کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ خاص تجربہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپائیڈر مین کا کردار ان کی زندگی کا سب سے بڑا تحفہ ہے اور ہر نئی فلم کا موقع انہیں اب بھی پہلے دن جیسا محسوس ہوتا ہے۔
جب ٹام ہالینڈ سے پوچھا گیا کہ وہ کب تک اسپائیڈر مین کا کردار ادا کرتے رہیں گے تو انہوں نے کہا کہ جب تک لوگ انہیں اس روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ یہ کردار نبھاتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی فلم کی کامیابی کے بعد مستقبل کے فیصلے کیے جائیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹام ہالینڈ نے چند سال قبل کہا تھا کہ اگر وہ 30 سال کی عمر کے بعد بھی اسپائیڈر مین کا کردار ادا کر رہے ہوں تو شاید یہ درست فیصلہ نہ ہو۔ تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی بات کا مقصد یہ تھا کہ ایک دن یہ ذمہ داری کسی نئے اداکار کو منتقل کی جا سکے، لیکن فی الحال ایسا وقت نہیں آیا۔
اداکار نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید انہیں اپنی مقرر کردہ عمر کی حد 30 سے بڑھا کر 37 سال کر دینی چاہیے۔
ٹام ہالینڈ نے 2016 میں فلم “کیپٹن امریکا: سول وار” کے ذریعے پہلی بار اسپائیڈر مین کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اس کردار کی دنیا بھر میں مقبول شناخت بن گئے اور کئی کامیاب فلموں میں پیٹر پارکر کا کردار نبھایا۔









