
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار بیٹر بابر اعظم کی ٹیسٹ قیادت سے متعلق ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے دوبارہ کپتانی سنبھالنے سے پہلے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم شرط رکھی تھی۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بابر اعظم نے مبینہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے کہا تھا کہ اگر انہیں ٹیسٹ ٹیم کی قیادت دی جاتی ہے تو مستقبل میں انہیں تینوں فارمیٹس کی کپتانی سونپنے پر بھی غور کیا جائے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سلیکٹرز نے ٹیسٹ ٹیم کے لیے نئے کپتان کی تلاش کے دوران بابر اعظم سے رابطہ کیا۔ یہ رابطہ شان مسعود کی قیادت میں ٹیسٹ ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کے بعد کیا گیا۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹیسٹ کپتانی کے لیے بابر اعظم کو سب سے موزوں امیدوار سمجھا گیا، جس کے بعد سلیکٹرز کے دو ارکان نے ان سے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق بابر اعظم نے ذمہ داری قبول کرنے سے قبل مستقبل میں تمام فارمیٹس کی قیادت سے متعلق یقین دہانی طلب کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سلیکٹرز نے بابر اعظم کو بتایا کہ اگر ٹیم آنے والی ٹیسٹ سیریز میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو انہیں تینوں فارمیٹس کی کپتانی دینے کے معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت ون ڈے ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شاہین آفریدی کو بھی ماضی میں کپتانی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا، جب انہیں ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ سلمان علی آغا کو بھی ٹیسٹ کپتانی کے لیے ایک آپشن کے طور پر دیکھا گیا تھا، تاہم انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب بابر اعظم نے 2023 میں پاکستان ٹیم کی تینوں فارمیٹس کی کپتانی چھوڑ دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت وہ صرف ایک فارمیٹ کی قیادت کے لیے تیار نہیں تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم نے بطور ٹیسٹ کپتان 20 میچوں میں پاکستان کی قیادت کی، جن میں ٹیم نے 10 کامیابیاں حاصل کیں، 6 میچز میں شکست ہوئی جبکہ 4 مقابلے ڈرا رہے۔









